نکاح

فون پر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
89401
| تاریخ :
2025-12-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر نکاح کرنے کا حکم

کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پانچ، چھ سال پرانی بات ہے کہ میں اول بہت حرام رشتے رکھے ،بعد میں اللہ تعالی نے ان گناہوں کی دلدل سے نکال کر علم دین دیا، لیکن ایک واقعہ اس دوران پیش آیا تھا، جس کی وجہ سے میں اب بہت پریشان ہوں ، وہ یہ کہ ایک دن میں نے کسی لڑکے سےکال پر یا میسج پر نکاح کے بارے میں کہا کہ ”کیا تم مجھے اپنے نکاح میں قبول کرتے ہو یا اس جیسےالفاظ“ کہے، اللہ کو گواہ بنا کر دونوں نے قبول ہے کہا ،یاد نہیں ،کیونکہ پانچ ،چھ سال کی بات ہے، اس دوران میرے پاس گواہ نہیں تھےاور ان کے پاس پتہ نہیں کہ گواہ تھےیا نہیں۔ تو اب میں ان سے پوچھ بھی نہیں سکتی اور نہ طلاق کا کہہ سکتی ہوں اور کبھی سوچتی ہوں کہ بغیر شادی کے رہوں گی، لیکن یہ میری لیے بہت مشکل ہے، لہذاآپ صاحبان سے گزارش ہے کہ ہمارا یہ پہلا والا نکاح جو ہم نے فون پر کیا تھا، درست تھا یا نہیں ؟کیونکہ میں اس سے چھٹکارا حاصل کر کے کسی اور جگہ نکاح کی خواہش رکھتی ہوں، تاکہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہو جاؤں، براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اوران گواہوں کےسامنے اس طرح ایجاب وقبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحتِ نکاح کے لیے شرط ہے، اس کے بغیرشرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ اور اس لڑکے کا بغرض ِنکاح کیاگیاایجاب وقبول چونکہ ایک مجلس میں نہیں ، بلکہ فون پر ہواتھا ، اس لئےشرعاً یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ہے،لہذا سائلہ اس شخص سے طلاق لیےبغیربھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ،تاہم سائلہ کو چاہیے کہ اپنے اس عمل اورنامحرم سے تعلقات رکھنے پر بصدق دل توبہ و استغفار کرےاور آئندہ کے لئے اس قسم کے اقدام سے مکمل اجتناب کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وشرط سماع كل من المتعاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاھدیں (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً الخ( کتاب النکاح،ج:3،ص:21،ط:سعید)۔
وفى الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين الخ (کتاب النکاح،ج: 2،ص: 5،ط:رحمانیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89401کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات