نکاح

آدمی کا شادی کی نیت سے کسی نامحرم سے تعلق رکھنا

فتوی نمبر :
89471
| تاریخ :
2025-12-02
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آدمی کا شادی کی نیت سے کسی نامحرم سے تعلق رکھنا

میرے شوہر کے دفتر میں ایک لڑکی کام کرتی ہے،جب اس نے اپنی نوکری شروع کی یا نوکری شروع ہونے کے قریب تھی، اسی دوران اس نے میرے شوہر کو اپنی تصویریں بھیجیں، ان تصویروں کا مجھے پہلے پتا نہیں چلا، لیکن بعد میں جب مجھے حقیقت معلوم ہوئی تو میری اپنے شوہر سے سخت لڑائی ہوئی، میں نے اس لڑکی کو بھی خوب سنائی، اس واقعے کے بعد دونوں ڈر گئے اور انہوں نے آپس کا وہ رابطہ، جو دوستی کی طرف بڑھ رہا تھا، ختم کر دیا، لیکن وہ لڑکی اب بھی میرے شوہر کے ساتھ آتی جاتی ہے، وہ اگرچہ عبایا پہنتی ہے، مگر پورا میک اَپ کر کے کار میں بیٹھتی ہے، جس سے مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے، میرا شوہر روزانہ یہی کہتا ہے کہ اس نے ہر قسم کا افیئر ختم کر دیا ہے، مگر ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ "جیسے ہی اس عورت کی طلاق ہو جائے گی، میں اس سے شادی کر لوں گا۔“ فی الحال وہ کسی کی بیوی ہے، لیکن اس کے طلاق کے کاغذات عدالت میں چل رہے ہیں۔ آپ بتائیے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ پہلی بیوی کے لیے یہ بات برداشت کرنا کتنا مشکل ہے کہ وہ عورت بار بار اسی حلیے میں آکر میرے شوہر کی گاڑی میں بیٹھتی ہے، میرا شوہر اسے ہر بار معاف کرتا رہتا ہے، اگر واقعی دونوں نے آئندہ شادی کی نیت رکھی ہوئی ہے، اور جو کچھ وہ دونوں زبان سے کہہ چکے ہیں — اس بارے میں اسلام کی کیا رہنمائی ہے؟ پہلی بیوی — یعنی میں — ذہنی اور جذباتی طور پر ٹوٹ چکی ہوں۔ روزانہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور دل کی تکلیف برداشت کر رہی ہوں۔ بعض اوقات دل کرتا ہے کہ خلع لے کر سب ختم کر دوں۔ براہِ کرم مجھے رہنمائی دیجیے، میں بہت لڑنے لگی ہوں اور ہر طرح کا سکون کھو چکی ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعتا درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو اس کے شوہرکیلئے ایک شادی شدہ اجنبی اور نامحرم لڑکی کو اپنی گاڑی میں تنہا بٹھا کر لانا لے جانا شرعا ناجائز اور حرام ہے، نیز سائلہ کے شوہر کا اس لڑکی کے ساتھ مستقبل میں شادی کا وعدہ کر کے اس کی شادی شدہ زندگی کو ختم کرنے پر اکسانا اور بھی قبیح اور شنیع عمل ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سخت گنہگار ہو رہا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ کرتے ہوئے آئندہ غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات سے باز آکر اس لڑکی کے ساتھ جملہ روابط کو مکمل طور پر ختم کر دے اور اب تک اپنے اس عمل کی وجہ سے اپنی بیوی (سائلہ) کو جو ذہنی تکلیف اور اذیت دی ہے اس پر بھی اس سے معافی مانگ کر اپنے گھر کو بچانے کی فکر کرے، اور سائلہ کو بھی چاہیے کہ اس سلسلے میں جلد بازی کے بجائے اپنے شوہر کو سمجھانے کے ساتھ اللہ کے حضور اس کی ہدایت کے لیے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے، امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالى: (ولا تقربوا الزنا انه كان فاحشة الخ)۔ (الاسراء: 32)۔
و قال اللہ تعلی: «وعاشروهنّ بالمعروف»۔ (النساء: 19)۔
وفی مسند أحمد: «لا طاعة لمخلوقٍ في معصية الخالق»۔ (1098)۔
وفی صحیح مسلم: «اتّقوا الظّلم فإنّ الظّلم ظلماتٌ يوم القيامة»۔ (2578)۔
وفی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (و فی رد المحتار تحت ھذا قوله للشقاق) فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع الخ۔ (كتاب الطلاق، ج:3، ص:441، ط: سعید)۔
و فیه أیضاً : كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا و في غيرها إطلاقا ، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية و شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ، فخرج الفسوخ كخيار عتق و بلوغ و ردة فإنه فسخ لا طلاق ، و بهذا علم أن عبارة الكنز و الملتقى منقوضة طردا و عكسا بحر الخ۔ (كتاب الطلاق، ج:3، ص:226، ط: سعید)۔
وفى الھندية : واذا تشاق الزوجان وخافا ان لا يقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدى نفسها منه بمال يخلعها به فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بأئنۃ ولزمها المال كذا في الهدايه ( باب في الخلع ، ج 1 ، ص 488 ، ط : ماجدیہ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89471کی تصدیق کریں
0     243
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات