حلالہ کے لئے نکاح کیا تھا ۔میرے والد اور ایک گواہ اور تھا۔جس آ دمی سے نکاح کیا وہ مفتی تھا۔اس نے گواہ کو بتایا نہیں کہ میں اپنا نکاح خود پڑھا رہا ہوں۔میں بھی نکاح کی محفل میں موجود تھی۔دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہوا۔مفتی صاحب نے اپنی ولدیت بھی ظاہر کی تھی۔نکاح ہوا یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائلہ اور جس شخص سے نکاح کیا گیا تھا، وہ خود مجلس میں موجود ہوں اور دونوں نے باہم سائلہ کے والد اور دوسرے شخص کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کر لیا ہو، نیز دوسرے گواہ کو دونوں کے درمیان ہونے والے نکاح کا ہونا واضح ہو چکا ہو تو شرعا یہ نکاح منعقد ہو چکا تھا اور اب ان دونوں کے درمیان میاں بیوی والا تعلق قائم ہونے کے بعد اگر اس شخص نے بھی سائلہ کو طلاق دے دی ہو، تو اس کی عدت گزرنے کے بعد سائلہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنفذ نكاح حرة مكلفةبلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ۔ (کتاب النكاح، ج:3 ،ص:55،ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: فصل بیان شرائط الجواز: قال فأنواع منھا أن یکون العاقد بالغا (الیٰ قوله) وبالبلوغ زالت ولایة الولی الخ۔ (ج:2 ص:233، ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی الدر المختار: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب الخ۔ (کتاب النكاح، ج:3 ص:21، ط: سعید)
وفی مجمع الأنهر: (و كذا) يصح العقد (لو زوج الأب بالغة عند رجل) واحد (إن حضرت) البالغة (صح) ؛ لأنه إذا حضرت صارت كأنها عاقدة والأب وذلك الرجل شاهدان الخ۔ (کتاب النکاح، شروط صحة النكاح، ج:1 ص:322 ط: دار الإحیاء التراث العربي)۔