کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک عورت، جس کا صرف نکاح ہوا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو، وہ اپنے شوہر سے طلاق مانگ رہی ہو تو اس صورت میں کیا شوہر پر مہر دینا لازم ہوگا یا نہیں؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ دورانِ نکاح اور نکاح کے بعد منکوحہ کو، اور اس کے گھر والوں کو عید، شبِ برات یا دیگر مواقع پر جو تحفے یا رقم دی گئی ہو، تو عورت کی طرف سے طلاق لینے کی صورت میں کیا شوہر وہ تمام رقم یا تحائف واپس لے سکتا ہے؟
میاں بیوی کے درمیان اگر نکاح کے بعد ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو ،جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو (یعنی ان کے درمیان خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو) اور اس سے قبل شوہر بیوی کو طلاق دیدے،تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ عقد نکاح کے وقت طےشدہ حق مہر میں سےآدھے مہر کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، تاہم اگر شوہر طلاق کے بجائے مہر کے عوض خلع دے تو ایسی صورت میں حق مہر اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا، جبکہ عورت کی جانب سے بغیر کسی وجہ کے جدائی حاصل کرنے کی صورت میں طلاق یا خلع میں مذکور اشیاء کی واپسی کی شرط لگانا بھی درست ہے۔
کما فی شامی: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) فلو كان نكاح على ما قيمته خمسة كان لها نصفه ودرهمان ونصف (وعاد النصف إلى ملك الزوج بمجرد الطلاق إذا لم يكن مسلما لها، وإن) كان (مسلما) لها لم يبطل ملكها منه بل (توقف) عوده إلى ملكه (على القضاء أو الرضا)، كتاب النكاح، (باب المهر، ج:3، ص:104، ط:ايج ايم سعيد)-
و فی الهداية:و إن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى اھ (1/199)۔
و فی الهداية : قال و إن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها لقوله عليه الصلاة و السلام: إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها ؛ و لأن المقصود فيها صلة الرحم و قد حصل "وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر"؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة، (3/ 292)-
وفی الھندیۃ: أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع (منها) هلاك الموهوب ... (ومنها) خروج الموهوب عن ملك الموهوب له ... (ومنها) موت الواهب، . . (ومنها) الزيادة في الموهوب زيادة متصلة . . . (ومنها) أن يتغير الموهوب .. (ومنها الزوجية) (ومنها القرابة المحرمية)". (الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: ماجدية)-