نکاح

غیر کفو میں لڑکی کا ولی کے اجازت کے بغیر کیے گئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
89624
| تاریخ :
2025-12-06
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر کفو میں لڑکی کا ولی کے اجازت کے بغیر کیے گئے نکاح کا حکم

حضرت! میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا۔ وہ اپنے گھر پر تھی، اور گھر میں رہتے ہوئے اس نے فون کال کے ذریعے میرے ایک دوست کو اپنا ولی بنا دیا۔ پھر اسی ’’ولی‘‘ نے دو گواہوں کی موجودگی میں ہمارا نکاح پڑھایا۔ کیا یہ نکاح ہو گیا؟
1. ولی نے (یعنی اصل باپ یا سرپرست نے) اجازت نہیں دی تھی۔ ہم دونوں نے صرف گناہ سے بچنے کی نیت سے نکاح کیا تھا۔
2. میں آپ کو کفوء (برابری) کے بارے میں کچھ معلومات بتانا چاہتا ہوں:
لڑکی کے والدین ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ مالدار ہیں۔ اس کے والد کا بڑا کاروبار ہے، اور میرے والد گزشتہ 5–6 سال سے (لاک ڈاؤن کے بعد سے) بے روزگار ہیں۔ گھر صرف میری والدہ کی 8,000 روپے کی کمائی سے چلتا ہے۔دینی اعتبار سے بھی اس کے گھر والے ہمارے گھر والوں سے زیادہ مذہبی ہیں۔ میرے پورے خاندان میں کوئی خاص مذہبی نہیں۔ہم دونوں نے صرف گناہ سے بچنے کے لئے نکاح کیا۔ ہم دونوں طالب علم ہیں اور میں ابھی کچھ کمائی نہیں کرتا۔کیا یہ نکاح ہو گیا؟یا پھر جب میں اپنی پڑھائی مکمل کر لوں اور مجھے ملازمت مل جائے، تو کیا مجھے اس کے والد کی اجازت کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟ براہِ کرم جواب دیں، یہ بہت اہم ہے۔ میں بہت پریشان ہوں۔میں حنفی فقہ پر عمل کرتا ہوں اور میں نے سنا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صرف تب صحیح ہوتا ہے جب لڑکا لڑکی کا کفوء ہو۔ میں نے اپنی اور لڑکی کے گھرانے کی حالت بھی بتا دی ہے، مال اور دین کے لحاظ سے بھی۔ کیا ہم کفوء میں ہیں؟براہ کرم جواب دیں۔ بات بہت ضروری ہے۔


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود کسی شخص کو اپنے نکاح کا اختیار دیکر اس کو اپنا وکیل مقرر کر دے، اور وہ شخص مجلس ِنکاح میں گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کی طرف سے ایجاب و قبول کرے ،تو اس طرح کرنے سے نکاح منعقد ہو جائے گا، بشرطیکہ یہ نکاح کفؤ ( لڑکی کے جوڑ اور برابر کے رشتہ )میں مہر مثل کے ساتھ کیا گیا ہو، لیکن اگر اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر کفؤ میں نکاح کیا گیا ہو، تو ایسا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا، ایسے نکاح کو نکاح سمجھ کر میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی ناجائز و حرام ہے۔
لہذا سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل اور لڑکی كاخاندان مختلف ہو، تو چونکہ یہ دونوں با ہم کفو نہیں ، اس لئےان دونوں کا اس طرح اولیا ء کی اجازت کے بغیر چھپ کر کیاگیا نکاح درست منعقد نہیں ہو ا، لہذا ان دونوں کا اس نکاح کی بنیاد پر بے تکلفی کا تعلق قائم کرنا اور ایک دوسرےکو میاں بیوی سمجھنا بھی جائز نہ ہو گا۔جبکہ لڑکا ولڑکی کا ا ولیاء کی ا جازت و رضامندی کے بغیر اس طرح چھپ کر نکاح کرنا انتہائی نا مناسب اور معیوب عمل ہے ، شریف گھر والوں میں اس طرح کے نکاح کو انتہائی برا سمجھا جاتاہے ،اور بڑوں کی دعاؤں سے خالی ہو نے کی وجہ سے اس طرح سے کئے گئے نکاح کانتیجہ عموماً طلاق یاخلع کی صورت میں نکلتاہے ، اس لئے آئندہ ایسے انتہائی اقدام اٹھانے سے احتراز چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الهندية: ثم المرأة اذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية وعن ابي حنيفة وهو قول ابي يوسف اخر وقول محمد اخر ايضا حتى ان قبل التفريق يثبت حكم الطلاق والظهار والايلاء والتواريث وغير ذلك ولكن للاولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن ابي حنيفة ان النكاح لا ينعقد وبه اخذ كثير من مشايخنا كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن اھ (ج: 1 ص: 292 مط: ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89624کی تصدیق کریں
0     100
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات