مصارف زکوۃ و صدقات

سود ی رقم کا علم ہونے کے باوجود اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
89674
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

سود ی رقم کا علم ہونے کے باوجود اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے؟

کیا یہ جائز ہے کہ اگر کوئی شخص مجھے رقم دے جو سودی ہو بینک کی طرف سے ؟اس رقم کے ساتھ کیا کرنا چاہیے ؟ وہ کہتے ہے کہ تم جو چاہو اس رقم کے ساتھ کرو، اور میں اس رقم سے اسلامی کتابیں خریدنا چاہتا ہوں ، کیا یہ درست ہے یا غلط؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سود کی وضاحت اور سائل کے علم میں آنے کے بعد اسے اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ، خواہ وہ اسلامی کتابیں خریدنے کے لیے ہو یا کسی اور غرض کے لیے، البتہ کسی واقعی مستحق زکوٰۃ کو بغیر نیت ثواب دیکر اس پر اسے مالک وقابض بنا دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ ال عمران ایة 130)۔
و فی صحیح مسلم: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» (3 /1219 رقم الحدیث 1598 )۔
وفی الدرالمختار: وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها الخ (5 /98)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام الخ (5/ 98)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89674کی تصدیق کریں
0     119
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات