نکاح

کیا رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھلانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
89743
| تاریخ :
2025-12-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھلانا جائز ہے؟

محترم سر! ہمارے ایک عزیز ہیں جو اپنی بیٹی کا نکاح بڑی سادگی سے کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ نکاح مسجد میں سادگی سے ہوگا،اور اس میں وہ کہتے ہیں کہ صرف مرد جا کر نکاح کرائیں گے اور رخصتی ہو جائے گی، لیکن باقی جو فیملی ہے، اُس کو کیا گھر آ کےکھانا کھلانا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ کوئی جہیز نہیں دے رہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی بیوی 50–60 لاکھ کا سونا بچی کو دیں گی، کیا یہ جہیز کے زُمرے میں نہیں آتا؟ براہِ کرم رہنمائی کریں،شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے عزیز کا سوال میں مذکور طریقے سے اپنی بیٹی کا نکاح مسجد میں سادگی سے انجام دینا اچھا اور مستحب عمل ہے،شریعتِ مطہرہ میں رسومات سے بچنے کی تاکید آئی ہے، اس لیے ایک مسلمان کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے، جبکہ کھانا کھلانے کے متعلق سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، تاہم اگر سائل کا سوال ولیمے کے کھانے کے متعلق ہو تو ولیمہ نکاح کے موقع پر ادا کرنا کوئی لازم نہیں، بلکہ نکاح مسجد میں ہو جانے کے بعد عزیز و اقارب کو گھر میں بھی ولیمے کا کھانا کھلایا جا سکتا ہے، البتہ اگر سوال لڑکی والوں کی طرف سے کھانا کھلانے کے متعلق ہو تو لڑکی والوں کا شادی کے موقع پر کھانے کا انتظام کرنا کوئی مسنون اور مستحب عمل نہیں، لہٰذا لڑکی والوں کے لیے ولیمۂ مسنونہ کی طرح اس کا اہتمام کرنا مسنون نہیں، البتہ اگر اس موقع پر آئے ہوئے مہمانوں کو بغیر کسی التزام کے کھانا کھلا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں، اور کھانے کا اہتمام حسبِ سہولت گھر میں یا کسی بھی مقام پر کیا جا سکتا ہے، جبکہ اپنی بیٹی کو رخصتی کے موقع پر اپنی استطاعت کے مطابق کوئی بھی چیز مثلاً سونا اور گھریلو ساز و سامان وغیرہ دینا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن ابي داؤد: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌إذا ‌دعي ‌أحدكم، فليجب، فإن كان مفطرا فليطعم، وإن كان ‬صائما، فليصل". قال هشام: والصلاة: الدعاء(باب في الصائم يدعى إلى وليمة ،ج:١،ص:١٠١٩،مط:البشرى)
وفي السنن الكبرى للبيهقي:عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‌تهادوا ‌تحابوا (باب التحريض على الهبة والهدية صلة بين الناس،ج:٦،ص:٢٧٩،مط:دارالكتب العلميه)
وفی الھندیۃ: ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة، وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء، ويذبح لهم، ويصنع لهم طعامًا، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا، قال عليه السلام: «من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائمًا أجاب ودعا، وإن لم يكن صائمًا أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا»، كذا في خزانة المفتين (کتاب الکراھیۃ،ج: ٥،ص: ٣٤٣،مط: ماجدیہ )
‌‌وفي رد المحتار:وجه المناسبة ظاهر (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه(الى قوله) (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال صلى الله عليه وسلم «تهادوا تحابوا» .(الى قوله) (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ(كتاب ‌الهبة،ج:٥،ص:٦٨٨،مط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89743کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات