نکاح

مرضعہ کے دعوی سے حرمت رضاعت کا حکم

فتوی نمبر :
89847
| تاریخ :
2025-12-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مرضعہ کے دعوی سے حرمت رضاعت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے چچا کی بیٹی کے ساتھ رشتہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اس شخص کی پھوپھی کاکہنا ہے کہ لڑکا لڑکی دونوں کو میں نے دودھ پلایا ہے۔ لڑکے کو دودھ پلانے کا علم کسی کونہیں ہے، نہ لڑکی کی والدہ کو ، نہ کسی اور کو، جبکہ لڑکی کو دودھ پلانے پر گواہ موجود ہیں، لڑکے کے بارے میں صرف پھوپھی کا دعویٰ ہے بغیر کسی گواہ کے۔ پھوپھی کے دعوے کے مطابق پھوپھی سورہی تھی کہ بچے نے دودھ پی لیا، لیکن جیسے ہی محسوس ہوا ، میں(پھوپھی) نے اسے جدا کردیا۔ کیا اس صورت میں پھوپھی کا دعویٰ قابلِ قبول ہے یا نہیں؟ لڑکے کا لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ثبوتِ حرمت رضاعت کےلئے دو عادل مرد یا ایک عادل مرد اور دو عادلہ عورتوں کا اس بات پر گواہی دینا ضروری ہےکہ مذکور مرد یا عورت نے مدتِ رضاعت ( ڈھائی سال ) کے اندر فلاں عورت کے سینے سے منہ لگا کردودھ پیا ہے، تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت ہوجائیگی، محض مرضعہ ( دودھ پلانےوالی عورت) کے اقرار اور دعویٰ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں مذکور لڑکے کی پھوپھی کے ساتھ اگر کوئی اور عورت اور مرد بطورِ گواہ موجود نہ ہوں، تو محض مرضعہ (لڑکے کی پھوپھی)کا دعویٰ شرعاً معتبر نہیں اور نہ ہی اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی۔ اورمذکور لڑکے و لڑکی کا آپس میں نکاح کرنا شرعاً جائز ہوگا۔ تاہم اگرلڑکے کوظنِ غالب کی حدتک مرضعہ یعنی دودھ پلانے والی (لڑکے کی پھوپھی) کی بات پر ِیقین و اطمینان ہو تو احتیاط کا تقاضا یہی کہ مذکور لڑکا اس لڑکی سے نکاح نہ کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:الرضاع (حجته حجة المال) وهي شھادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنھا حق العبد (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنھا حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشھادة بطلاقھا) إلخ۔
وفی الشامیۃ:تحت(قوله حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله وهي شھادة عدلين إلخ) أي من الرجال۔ وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنھاية تبعا، لما في رضاع الخانية: لو شھدت به امرأة قبل النكاح فھو في سعة من تكذيبھا، لكن في محرمات الخانية إن كان قيله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسھل من الدفع۔ ويوفق بحمل الأول على ما إذا لم تعلم عدالة المخبر أو على ما في المحيط من أن فيه روايتين، ومقتضاه أنه بعد العقد لا يعتبر اتفاقا، لكن نقل الزيلعي عن المغني وكراهية الھداية أن خبر الواحد مقبول في الرضاع الطارئ بأن كان تحته متغيرة فشھدت واحدة بأن أمه أو أخته أرضعتھا بعد العقد۔ قلت: ويشير إليه ما مر من قول الخانية وهما كبيران، لكن قال في البحر بعد ذلك: إن ظاهر المتون أنه لا يعمل به مطلقا، فليكن هو المعتمد في المذهب۔ قلت: وهو أيضا ظاهر كلام كافي الحاكم الذي هو جمع كتب ظاهر الرواية، وفرق بينه وبين قبول خبرالواحد بنجاسة الماء أو اللحم إلخ۔ (باب الرضاع، ج 3، ص 224، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: و لا یقبل فی الرضاع شھادۃ النساء منفردات، و إنما یثبت بشھادۃ رجلین، أو رجل و امرأتین (إلی قولہ) و لنا: أن ثبوت الحرمۃ لا یقبل الفصل عن زوال الملک فی باب النکاح، و إبطال الملک لا یثبت إلا بشھادۃ رجلین أو رجل و امرأتین إلخ۔ (کتاب الرضاع، ج 2، ص 55، ط: انعامیۃ)۔
وفی الھندیۃ: ولا يقبل في الرضاع إلا شھادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول(إلی قولہ) وإن كان المخبر واحدا ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنزه ويأخذ بالثقة وجد الإخبار قبل العقد أو بعده ولا يجب عليه ذلك كذا في المحيط إلخ۔ (کتاب الرضاع،ج 1، ص 347، ط:دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89847کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات