نکاح

شادی شدہ عورت کا طلاق لئے بغیر دوسرے مرد سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
89933
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شادی شدہ عورت کا طلاق لئے بغیر دوسرے مرد سے نکاح کرنا

کیافرماتے ہیں علما کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں مسمیٰ۔۔۔نے دوہزار سات میں ایک مطلقہ خاتون مسماۃ ۔۔۔ سے نکاح کیا تھا، اس سے میرے چار بچے بھی ہیں ، آج سے تقریبا پانچ سال قبل ناجائز تعلقات اور خراب کردار کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئی تھی، ادھر ادھر رہنے کے بعد اب ہمیں پتہ چلا ہے، کہ اس نے ایک اور آدمی سے نکاح کیا ہے ، جبکہ میں نے آج تک اس کو کوئی طلاق نہیں دی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے، اور کیا اس عورت کی اس کردار کی بناء پر میں بھی گناہ گار ہو نگا، اور اگر میں اس خاتون کو طلاق دوں۔ تو مہر کا کیا حکم ہے ؟ ایسی صورت میں تو اس کو واپس لانے کی کوئی صورت اور امکان نہیں، تو کیا طلاق دینے سے میں گناہ گار ہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو تو سائل کی بیوی کا سائل کے نکاح میں ہوتے ہوئے سائل سے باقاعدہ طلاق یا خلع لئے بغیر کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ہے، لہذا سائل کی بیوی نے جتنا عرصہ اس دوسرے شخص کے سا تھ گزارا ہے، وہ حرام کاری میں مبتلارہی ہے، جس پر اسے بصدق دل تو بہ واستغفار لازم ہے ، جبکہ اس کے اس فعل کی وجہ سے سائل گناہ گار نہیں ہے ، اسی طرح اگر سائل اب اسے رکھنے کے بجائے طلاق دینا چاہے تو طلاق دینے کی وجہ سے بھی سائل گناہ گار نہ ہو گا۔ البتہ سائل نے بوقت نکاح جو حق مہر طے کیا تھا اگر طلاق دینے سے قبل ادا نہ کیا ہو یا بیوی سے حق مہر معاف بھی نہ کرائے تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ پورا حق مہر ادا کر نالازم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود، ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما فتح. (إلی قوله) أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ. (إلی قوله) قلت: ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت مع أنه لم يقل أحد من المسلمين بجوازه وتقدم في باب المهر أن الدخول في النكاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب اھ (3/ 516)
و في الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري: ثم الخلوة في النكاح الفاسد لا توجب العدة وإن تزوج منكوحة الغير ووطئها إن كان لا يعلم أنها منكوحة غيره تجب العدة وتحرم على الأول إلى أن تنقضي العدة وإن علم أنها منكوحة لا تجب العدة ولا تحرم على الأول ؛ لأنه حينئذ يكون زنا محضا اھ (5/ 193) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 89933کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات