احکام نماز

تسلسل ریح کی صورت میں نماز کا حکم

فتوی نمبر :
90035
| تاریخ :
2025-12-15
عبادات / نماز / احکام نماز

تسلسل ریح کی صورت میں نماز کا حکم

کافی عرصے سے معدے کا مسئلہ ہے، بار بار ہوا خارج ہوتی رہتی ہے، آج دورانِ وضو ،وضو ٹوٹ گیا، دوبارہ وضو کر کے آدھی نماز پڑھی، پھر وضو ٹوٹ گیا، اس صورتِ حال میں نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کو معدے کے اس مرض کی وجہ سے خروجِ ریح کا عارضہ اس تسلسل سے ہو کہ پوری ایک نماز کے وقت میں اتنا وقفہ بھی نہ ملتا ہو جس میں وضو کر کے فرض نماز ادا کی جا سکے، تو وہ شرعاً معذور ہے، لہٰذا سائل پر ہر فرض نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہے، چنانچہ اس وضو سے اس وقت میں جتنے فرض اور نوافل وغیرہ ادا کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، خروجِ ریح کی وجہ سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس کے علاوہ کوئی اور ناقضِ وضو پایا گیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اسی طرح نماز کا وقت ختم ہونے پر اس کا وضو خود بخود ٹوٹ جائے گا، اب اگلی نماز کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہوگا، لیکن اگر مذکور عارضہ مسلسل نہ ہو بلکہ درمیان میں اتنا وقفہ ہو جاتا ہے کہ جس میں صرف وضو کر کے فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے، تو اس صورت میں سائل شرعاً معذور نہیں کہلائے گا۔ اس کو انتظار کر کے باقاعدہ وضو کی حالت میں ہی نماز ادا کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدّر: (وصاحب عذر من به سلسل) بول لا یمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح او استحاضة) او بعینه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما یخرج بوجع ولو من اذن وشدی وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروة) بأن لا یجد فی جمیع وقتها زمنا یتوضأ ویصلی فیه خالیا عن الحدث (ولو حكما).
وفی الشامیة تحت (قوله أو انفلات ریح) هو من لا یملك جمع مقعدته لاسترخاء فیها نهر. (ج۱، ص۳۰۵)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90035کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات