نکاح

نکاح منعقد ہونے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
90056
| تاریخ :
2025-12-16
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح منعقد ہونے کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب
میں آپ کی شرعی رہنمائی اور اپنے خاندان میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعہ کے بارے میں مستند فتویٰ حاصل کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ میں آپ سے عاجزانہ تعاون کی درخواست کرتا ہوں تاکہ اس معاملے کو اسلامی اصولوں کے مطابق حل کیا جا سکے۔ وضاحت اور آسانی کے لیے میں پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔
میں ایک ملازم پیشہ ہوں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہوں، اور میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے اور ان پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد میں نے ان کی شادیاں کروانا شروع کر دیں۔
اس سلسلے میں ہم نے ایک میچ میکر کے ذریعے اپنے بیٹے کی شادی کے لیے بات چیت شروع کی۔ الحمدللہ، دونوں خاندانوں نے باہم اتفاق کیا، اور منگنی/فائنلائزیشن 25 جنوری 2025 کو ہوئی، اسی سال شادی کی منصوبہ بندی کی گئی۔
جیسا کہ تعلقات مثبت طور پر آگے بڑھے، دونوں خاندانوں نے باہمی طور پر 30 نومبر 2025 کو نکاح اور رخصتئ کرنے کا فیصلہ کیا،اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نکاح کی تقریب رخصتی سے چار دن قبل منعقد کی جائے گی،اگرچہ ہم نے شادی سے کچھ دن پہلے کچھ غیر معمولی رویہ دیکھا، لیکن ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی خاطر ہم نے اسے نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا۔رخصتئ کے دن تمام مہمان اکٹھے ہو چکے تھے اور ہم شادی ہال جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسی لمحے ہمیں دلہن کے والد کا فون آیا جس میں بتایا گیا کہ وہ دلہن کو لانے میں دیر کر دیں گے۔ کئی کالوں اور بار بار کی تاخیر کے بعد، بغیر کسی واضح وضاحت کے، ہماری تشویش بڑھ گئی۔ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہم میں سے تین بندے فوراً ان کے گھر گئے۔ ان کے گھر پہنچنے پر ہی ہمیں اطلاع ملی کہ دلہن بیوٹی پارلر سے غائب ہوگئی ہے اور اس کے گھر والوں کو اس کا پتہ نہیں ہے۔ وہ اس کی تلاش میں تھے اور خود بھی تکلیف میں تھے۔ خاص طور پر لڑکی کی حفاظت کے لیے گہری فکرمند ہونے کے باوجود، ہم نے خاندان کی مدد کی اور مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرنے میں مدد کی۔اس دوران لڑکی نے میرے بیٹے سے رابطہ کرنے کے لیے کسی اور کا موبائل فون استعمال کیا اور میرے بیٹے کا نمبر مانگا۔ ہم نے فوراً نمبر فراہم کیا۔ اس شخص نے بعد میں ہمیں بتایا کہ لڑکی اسلام آباد کی طرف جانے والی بس میں سفر کر رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس نے اسے میرے بیٹے کا نمبر دیا تھا لیکن اس نے ہم سے بات کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہم سے رابطہ کریں گی۔ہم نے بار بار اس سے بس کی تفصیلات طلب کیں، اور اس نے بس کا نام، اس کا موجودہ مقام، اور متوقع آمد کا وقت بتایا۔ ہم نے یہ تمام معلومات اس کے والد کے ساتھ شیئر کی، جس نے پھر پولیس کو اطلاع دی۔ہمیں اپنے بیانات دینے کے لیے تھانے بلایا گیا۔ مکمل تعاون کرنے کے بعد، ہمیں گھر واپس آنے اور مزید اپ ڈیٹس کا انتظار کرنے کو کہا گیا۔اس دوران موبائل فون کے مالک نے اپنی ڈیوائس کے ممکنہ غلط استعمال کے خوف سے بس ڈرائیور کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ بس ڈرائیور نے اس کی اطلاع موٹروے پولیس کو دی۔ موٹروے پولیس نے بس کو روکا، لڑکی کو تحویل میں لے لیا، اور بس کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد اسے متعلقہ تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔بعد ازاں ایک پولیس افسر نے میرے بیٹے سے رابطہ کیا اور اسے مطلع کیا کہ لڑکی ان کی تحویل میں ہے اور ہمیں آنے اور اسے لینے کو کہا۔ جب ہم اس کے والد کے ساتھ سکھر پہنچے تو ہمیں اطلاع ملی کہ وہ پہلے ہی دارالامان منتقل ہو چکی ہیں اور ہمیں ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ واقعہ جمعہ کی رات شروع ہوا۔ اس کے بعد ہم کراچی واپس آگئے، جبکہ اس کے والد سکھر میں ہی رہے اور اپنی بیٹی کی تحویل کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی۔ عدالتی کارروائی اور فیصلے ابھی باقی ہیں۔دارالامان کے مطابق لڑکی نے اپنے اہل خانہ پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں تاہم اس کے بیانات واقعے کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔بالآخر، اسے سکھر کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جو فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ اپنے والدین کے پاس واپس آئے گی یا کوئی اور انتظام کیا جائے گا۔ ہمارے پاس فی الحال حتمی نتائج کے بارے میں کوئی قابل اعتماد معلومات نہیں ہیں۔
واقعات کی بنیاد پر، ہم مندرجہ ذیل باتوں پر یقین رکھتے ہیں:
لڑکی نے ممکنہ طور پر کسی کی مدد سے بھاگنے کی کوشش کی۔اگر اسے واقعی گھر میں کوئی مسئلہ تھا، تو وہ اپنے شوہر کے گھر جانے سے صرف دو گھنٹے کی دوری پر تھی۔ اس لیے اکیلے اسلام آباد کا سفر سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
اس نے کبھی بھی میرے بیٹے یا ہمارے گھر والوں سے رابطہ نہیں کیا کہ وہ ہمیں کسی مسئلہ کی اطلاع دیں۔
بیوٹی پارلر سے جمع کیے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی سے خفیہ طور پر رابطہ کر رہی تھی اور موقع ملنے پر وہاں سے چلی گئی۔
شرعی رہنمائی کی درخواست
ان حالات کی روشنی میں، ہم احترام کے ساتھ درج ذیل نکات پر آپ کی شرعی رائے چاہتے ہیں:
اس صورت میں نکاح کی کیا حیثیت ہے؟
حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر انجام دیا گیا، تو اس نکاح کی کیا حیثیت ہے؟
کیا دلہن کے اعمال کے پیش نظر یہ نکاح جائز ہے؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق اس شادی کو جاری رکھنا یا آگے بڑھانا جائز ہے۔
ہم آپ سے مخلصانہ رہنمائی کے خواہاں ہیں تاکہ ہم اسلامی اقدار اور انصاف کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ مذکور لڑکی کا نکاح اس کی اجازت سے ہوا تھا یا اجازت کے بغیر نکاح کرایا گیا؟ اور اگر اس کی اجازت کے بغیر اس کے والد اور سرپرست نے اس کا نکاح کرایا ہو تو اسے نکاح کی خبر ملنے کے بعد اس نکاح کو قبول کیا تھا یا نہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم سائل کے بیٹے کے نکاح کے وقت اگر مذکور لڑکی خود موجود تھی یا اس کے سرپرست نے اس کی اجازت سے باضا بطہ شرعی طریقۂ کار کے مطابق گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ اس کا نکاح کرایا ہو، یا نکاح تو اس کی اجازت کے بغیر ہوا ہو مگر لڑکی کو نکاح کی خبر ملنے کے بعد اس نے اس نکاح پر رضامندی کا اظہار کیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہو چکا ہے،اب اگر سائل کو سوال میں مذکور واقعات رونما ہونے کی بنا پر غالب گمان یہ ہو کہ یہ رشتہ نہیں چل سکے گا اور مسائل بنیں گے تو دونوں خاندان اور میاں بیوی باہمی رضامندی سے بذریعۂ خلع اس رشتے کو ختم بھی کر سکتے ہیں، اور اس رشتے کو ختم کرنے کی وجہ سے سائل اور اس کا بیٹا گناہگار بھی نہیں ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدرالمختار:(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر(كتاب النكاح،ج:٣،ص:،مط:سعيد)
و فيه ايضاََ: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما،الخ) ‌‌(كتاب النكاح،ج:٣،ص:،مط:سعيد)
و فيه ايضاََ:(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا(‌‌باب الولي،ج:٣،ص:،مط:سعيد)
و فيه ايضاََ:(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة(‌‌باب الولي،ج:٣،ص:،مط:سعيد)
‌وفی البدئع الصنائع:الحرة ‌البالغة ‌العاقلة ‌إذا ‌زوجت ‌نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض(فصل ولاية الندب والاستحباب في النكاح،ج:٢،ص:٢٤٧،ص:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90056کی تصدیق کریں
0     147
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات