نکاح

کیا ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کرنےسےنکاح درست ہوجاتاہے؟

فتوی نمبر :
90110
| تاریخ :
2025-12-17
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا ویڈیو کال کے ذریعہ نکاح کرنےسےنکاح درست ہوجاتاہے؟

السلام علیکم!کیا آن لائن نکاح ہو سکتا ہے؟ مثلاً لڑکا کسی دوسرے ملک میں ہو اور لڑکی پاکستان میں ہو، اور نکاح واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے کیا جائے، جبکہ گواہ پاکستان میں موجود ہوں، خواہ وہ لڑکے کے ہوں یا لڑکی کے۔ براہِ کرم اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کےلیے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے، جبکہ انٹرنیٹ پر ویڈیو کال یا ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ لڑکا، لڑکی کا ایجاب و قبول کرنا، مجلس ایک نہ ہو نے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، البتہ اگر متعاقدین میں سے دونوں یاکسی ایک کے لئے مجلس ِنکاح میں حاضرہوناممکن نہ ہو ،تواس کاطریقہ یہ ہے کہ : جوفریق مجلس ِنکاح میں حاضرنہ ہو،وہ اپنی طرف سے مجلسِ نکاح میں موجودکسی شخص کووکیل مقررکردے ،جو عقدِنکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی میں اس کی طرف سے بطوروکیل ایجاب و قبول کرے، مثلاً یہ کہ: "میں نے اتنےحق مہر کے عوض فلانہ بنت فلاں کواپنے مؤکل کے نکاح میں قبول کیا"، چنانچہ اس طرح کے ایجاب و قبول سے یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہوجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ومن شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین، وان طال اھـ(14/3)
وفی الہندیة: ویصح التوکیل بالنکاح وان لم یحضرہ الشہود اھ(293/1)
وفی الفقه الاسلامی: (تحت قوله صحة التوکیل بالزواج)یری الحنفیة انه یصح التوکیل بعقد الزوج من الرجل والمرأۃ (الی قوله) ویصح التوکیل بالعبارۃ والکتابة اھ (320/7)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90110کی تصدیق کریں
0     125
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات