نکاح

بہو کا حرمت مصاہرت کا دعوی کرنا

فتوی نمبر :
90121
| تاریخ :
2025-12-17
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بہو کا حرمت مصاہرت کا دعوی کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے سسر کی حرکات میرے ساتھ درست نہیں ہیں۔ اس کی حرکات ایسی ہیں کہ کبھی وہ مجھ سے پاؤں دبواتا ہے حالانکہ اس کی جوان بیوی موجود ہے۔ ایک دفعہ مجھ پر بیماری کی حالت طاری ہو گئی اس نے اس حالت میں کپڑوں کے اوپر سے میرے پستان کو دبایا دو تین موقعوں پر اس نے مجھ سے گندی گندی باتیں بھی کیں یہ حالات میرا سسر میرے ساتھ کر رہا ہے
میرا سسر کہہ رہا ہے کہ میں قرآن پر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس پر گواہ میرے پاس کوئی نہیں ہے اس لیے کہ اس وقت گھر میں میں اور سسر اکیلے ہی تھے۔
میرا شوہر کہتا ہے کہ میں اپنے والد کی نہ تصدیق کرسکتا ہوں اور نہ ہی تکذیب کر سکتا ہوں اس لیے کہ وہ قسم کھا رہے ہیں
میں اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی
مہربانی فرما آپ مجھے اس کا حل بتائیں۔
جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائلہ کے پاس چونکہ اپنے دعوی پر گواہ موجود نہیں ہے ،اور شوہر بھی اس با ت کی تصدیق نہیں کررہا اور سسر بھی قسم کھاکر سائلہ کی بات کی تر دید کررہا ہے،اس لئے مذکور صورت میں سائلہ اور اسکے شوہر کے درمیان حرمت مصا ہرت قضاء تو ثا بت نہیں ہوئی ،تاہم معاملہ چونکہ عفت اور عصمت کی حفاظت کا ہے ،اس لئے سائلہ کواگر واقعۃ سسر کے ساتھ رہنے میں اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا ہو ،تو اس کے شوہر پر بیوی کے تحفظ کے لئے با عزت رہائش کا بند وبست کرنا لازم اور ضروری ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: حَرُمَ أَيْضًا بِالصِّهْرِيَّةِ (أَصْلُ مَزْنِيَّتِهِ) أَرَادَ بِالزِّنَا فِي الْوَطْءِ الْحَرَامِ (وَ) أَصْلُ (مَمْسُوسَتِهِ بِشَهْوَةٍ) وَلَوْ لِشَعْرٍ عَلَى الرَّأْسِ بِحَائِلٍ لَا يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ(وَأَصْلُ مَاسَّتِهِ وَنَاظِرَةٍ إلَى ذَكَرِهِ وَالْمَنْظُورُ إلَى فَرْجِهَا) الْمُدَوَّرِ (الدَّاخِلِ) (وَأَصْلُ مَاسَّتِهِ وَنَاظِرَةٍ إلَى ذَكَرِهِ وَالْمَنْظُورُ إلَى فَرْجِهَا) الْمُدَوَّرِ (الدَّاخِلِ) (وَأَصْلُ مَاسَّتِهِ وَنَاظِرَةٍ إلَى ذَكَرِهِ وَالْمَنْظُورُ إلَى فَرْجِهَا) الْمُدَوَّرِ (الدَّاخِلِ) وَلَوْ نَظَرَهُ مِنْ زُجَاجٍ أَوْ مَاءٍ هِيَ فِيهِ (وَفُرُوعُهُنَّ) مُطْلَقًا وَالْعِبْرَةُ لِلشَّهْوَةِ عِنْدَ الْمَسِّ وَالنَّظَرِ لَا بَعْدَهُمَا (کتاب النکاح، باب المحرمات،ج:3، ص: 33 ، ط:سعید)
و فیہ ایضا:وَإِنْ ادَّعَتْ الشَّهْوَةَ) فِي تَقْبِيلِهِ أَوْ تَقْبِيلِهَا ابْنَهُ (وَأَنْكَرَهَا الرَّجُلُ فَهُوَ مُصَدَّقٌ) لَا هِيَ (إلَّا أَنْ يَقُومَ إلَيْهَا مُنْتَشِرًا) آلَتُهُ (فَيُعَانِقَهَا) لِقَرِينَةِ كَذِبِهِ أَوْ يَأْخُذَ ثَدْيَهَا (أَوْ يَرْكَبَ مَعَهَا) أَوْ يَمَسَّهَا عَلَى الْفَرَجِ أَوْ يُقَبِّلَهَا عَلَى الْفَمِ قَالَهُ الْحَدَّادِيُّ وَفِي الْفَتْحِ يَتَرَاءَى إلْحَاقُ الْخَدَّيْنِ بِالْفَمِ، وَفِي الْخُلَاصَةِ قِيلَ لَهُ مَا فَعَلْت بِأُمِّ امْرَأَتِك فَقَالَ: جَامَعْتهَا تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ؛ وَلَا يُصَدَّقُ أَنَّهُ كَذِبٌ وَلَوْ هَازِلًا(وَتُقْبَلُ الشَّهَادَةُ عَلَى الْإِقْرَارِ بِاللَّمْسِ وَالتَّقْبِيلِ عَنْ شَهْوَةٍ وَكَذَا) تُقْبَلُ (عَلَى نَفْسِ اللَّمْسِ وَالتَّقْبِيلِ) وَالنَّظَرِ إلَى ذَكَرِهِ أَوْ فَرْجِهَا (عَنْ شَهْوَةٍ فِي الْمُخْتَارِ) تَجْنِيسٌ لِأَنَّ الشَّهْوَةَ مِمَّا يُوقَفُ عَلَيْهَا فِي الْجُمْلَةِ بِانْتِشَارٍ أَوْ آثَارٍ.(ج:3،ص:38،ط سعید)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90121کی تصدیق کریں
0     226
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات