السلام علیکم ورحمۃالله وبرکاتہ!
سوال یہ ہے کہ والد اگر نکاح نہ کر رہے ہوں بیٹیوں کا، اور سخت اور غصہ کے تیز ہوں کہ والدہ بھی ڈر خوف سے زندگی بسر کر رہی ہوں تو کیا بیٹی از خود نکاح کر سکتی ہے؟ کیونکہ والدہ نے کافی کہا سب رشتہ داروں نے سمجھایا لیکن جواب یہی ملا کہ بیٹیاں انتظار کرتی ہیں،بیٹیوں کے لئے رشتے آتے ہیں،جبکہ جتنے رشتے بھی آئے والد نے کسی کو قادیانی کہہ دیا کسی کو شیعہ ،حالانکہ نہایت ہی دینی تعلقات رکھنے والے حضرات کی جانب سے رشتے آئے تھے،اب ایک بہن کی عمر تیس،اور ایک کی تینتیس ہے جبکہ میری عمر تئیس کے قریب ہے اور میرے لئے حافظ و عالم کا رشتہ آیا ہوا ہے،بھائی کے ساتھ جامعہ کے ساتھی ہیں،والدہ سے ملے ہیں بھائی کے ذریعے نکاح کا پیغام بھیجا ہے،میں نے اول تو قبول نہ کیا اس ڈر سے کہ والد نے تو نکاح کروانا نہیں بلاوجہ بات دل میں رہے گی ،لیکن والدہ نے منایا تو میں نے قبول کرلیا پیغام کو اب ایک سال ہونے کو ہے والدہ جب بھی ملتی ہیں اس لڑکے سے تو یہی کہتی ہیں ہم نے اپنی بیٹی آپ کو ہی دینی ہے لیکن فی الحال ہم منا رہے ہیں ان کے والد کو، جبکہ والد نے والدہ سے کہہ دیا کہ یا خود کردو ان کے نکاح یا پھر جیسے تمہاری بھتیجی گھر سے گئی تھی خود اسی طرح یہ بھی چلی جائیں گی،ہمارے ہاں پڑھا لکھا کر نوکریاں کروائی جارہی ہیں کہہ دیا گیا والد کی طرف سے خود کماؤ،جس بہن کی سرکاری نوکری ہے اس کی تنخواہ بھی لے لیتے ہیں،کسی کو بتانے نہیں دیتے بہت ڈرا دھمکا کر رکھا ہوا ہے، کئی علماء سے اپنے جامعہ کی معلمہ سے بھی رابطہ کیا کہ کوئی حل بتا دیں معلمہ نے کہا کہ آپ خود کر یں نکاح کہ چار سال ہوگئے آپ کہہ رہی ہیں ان کو خود ،لیکن یہ نہیں مان رہے ہیں تو اب یہی حل ہے،مسجد کے امام صاحب نے سب نے سمجھا لیا ان کو، مگر یہ بیٹیوں کی شادیاں نہیں کر رہے، بس یہی جواب ہوتا ہے ان کا کہ تقدیر میں ہوا تو ہوجائے گا ۔حضرت آپ سے رب راضی رہیں ہمیشہ ،خدارا مجھے اس مسئلے کا کوئی حل بتا دیجیے جزاکم الله خیرا۔
واضح ہو کہ اولاد کے بالغ ہونے پر اور جوڑ کا رشتہ ملنے پر ان کا نکاح کرانا والدین کے ذمہ اولاد کا حق ہے ، اور اس میں بلاوجہ تاخیر کرنا شرعاً درست نہیں ، ورنہ اگر والدین کےنکاح میں تاخیرکرنے کی وجہ سے اولاد گناہ میں پڑ جائےتواس کی وجہ سے والدین بھی گناہ گار ہوں گے۔
لہذا سوال میں مذکور لڑکی کے والد کا اپنے بچیوں کے لئے مناسب رشتہ ملنے کے با وجود ان کے نکاح کرانے میں رکاوٹ بننا اور اسے گھر بٹھائے رکھنا شرعاً جائز نہیں ، خاص طور پر جب لڑکی بھی اسی جگہ شادی کرنے کا مطالبہ کرے اور وہ رشتہ بھی اس کا کفؤ کا ہو، اس لئے اولاً تو اس کے والد کو چاہیئے کہ اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے باز آکر جلد از جلد اپنی بچیوں کے شادی کرانے کا اہتمام کریں ، تا کہ ان کی کسی غلطی اور گناہ کا وبال اس کے ذمہ نہ آئے ورنہ دنیاوی مفاد کے خاطر بچیوں کے نکاح میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا اور بچیوں کو جوڑ ( کفؤ) کا رشتہ مل جانے پر وہ خود بھی نکاح کر سکتی ہیں۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه مَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم «مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى أَبِيهِ» .(باب الولی فی النکاح، ج: 5، ص: 2064، ط: دار الفکر)۔
و فیھا ایضاً: (وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: " فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ مَنْ بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ يُزَوِّجْهَا) أَيْ: وَوَجَدَ لَهَا كُفُؤًا (فَأَصَابَتْ إِثْمًا) أَيْ: مَا أَثِمَ بِهِ مِنَ الْفَوَاحِشِ (فَإِثْمُ ذَلِكَ) أَيْ: إِصَابَتُهَا (عَلَيْهِ) أَيْ: عَلَى أَبِيهَا (رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ) .(باب الولی فی النکاح، ج: 5، ص: 2064، ط: دار الکتب)۔
و فی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ (باب الولی، ج: 3، ص: 55، ط: سعید)۔