السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے نے اپنی خالہ کا دودھ پیا ہے ، اب وہ خالہ میری بیٹی کا رشتہ مانگ رہی ہے۔ فرمائیں کہ یہ رشتہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟اور میرے جو دیگر بچے بچیاں ہیں اسی طرح اس خالہ کے جو بچے ہیں ان کا آپس میں کونسا رشتہ ہے اور ان کا آپس میں نکاح کیسا ہے؟جزاكم الله خيراً
سائل کے جس بیٹے نے مدت رضاعت میں اپنی خالہ کا دودھ پیا ہےتو وہ بیٹا اپنی خالہ کا رضاعی بیٹا بن چکا ہے ، لہذا مذکور بیٹے کا نکاح اپنی خالہ کے کسی بیٹی سے درست نہیں، البتہ اس کے علاوہ سائل کی باقی اولاد کا اپنی خالہ کی اولاد کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً درست ہے ، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔لہذا اگر سائل کی بیٹی کا ان کی خالہ کے بیٹے کے درمیان کوئی اور حرمت کی وجہ نہ ہوتو فقط اس کے بھائی کا اپنی خالہ کا دودھ پینے کی وجہ سے اس کا نکاح حرام نہ ہوگا،بلکہ ان دونوں کا آپس میں نکاح بلاشبہ جائزاور درست ہے۔
کما فی الدر المختار: (وتحل أخت أخیہ رضاعاً) یصح إتصالہ بالمضاف کأن یکون لہ أخ نسبی لہ أخت رضاعیۃ، و بالمضاف الیہ کأن یکون لأخیہ رضاعًا أخت نسباً و بھما و ھو ظاھر الخ۔ (باب الرضاع، ج: 3، ص: 217،ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: وتحل أخت أخیہ رضاعاً کما تحل نسباً مثل الأخ لأب إذا کانت لہ أخت من أمہ یحل لأخیہ من أبیہ أن یتزجھا کذا فی الکافی الخ۔ (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 343، ط: ماجدیہ)۔