احکام نماز

مغرب کی دوسری رکعت پر سلام پھیرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90216
| تاریخ :
2025-12-22
عبادات / نماز / احکام نماز

مغرب کی دوسری رکعت پر سلام پھیرنے کا حکم

السلام علیکم
مغرب کی دوسری رکعت میں امام صاحب نے ایک طرف direct
سلام پھیرا اور
مقتدیوں کے لقمے کی وجہ سے پھر دو سجدے کیے پھر تشہد میں بیٹھے مگر مقتدیوں کے لقمے کی وجہ سے تیسری رکعت ادا کر کے سجدہ سہو کر کے سلام پھیرا کیا نماز ہو گئی ۔؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اما م صاحب نے اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد نماز کے منافی کوئی کام نہ کیا ہو جیسے بات چیت کرنا یا سینے کا قبلہ سے پھیر لینا وغیرہ اور معلوم ہونے پر سجدے کرکے ،تشہد کی ادائیگی کے بعد فورا تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوگیا ہو اور تیسری رکعت پڑھا کر آخر میں سجدہ سھو کرلیا ہو تو ایسی صورت میں نماز ہوجائے گی ، از سر نو نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البدائع : ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها ثم علم أنه صلى ركعتين وهو على مكانه يتمها ويسجد للسهو
أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني (فصل في سبب الوجوب ،ج:١٦٤،ص:١،مط: سعيد)
وفي الدر المحتار: ( ويسجد للسهو ولو مع سلامه ) ناويا ( للقطع ) لأن نية تغيير المشروع لغو ( ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم ) لبطلان التحريمة(باب سجود السهو، ج: ٢،ص: ٩١، مط: سيعد)
وفي حاشية الطحطاوي : حاصل المسألة أنه إذا سلم ساهيا على الركعتين مثلا وهو في مكانه ولم يصرف وجهه عن القبلة ولم يأت بمناف عاد إلى الصلاة من غير تحريمة وبنى على ما مضى وأتم ما عليه ولو اقتدى به إنسان في هذه الحالة صح (باب سجود السهو،ج:٢، ص:٧٥،مط: مکتبۃ العلم التحقیق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90216کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات