نکاح

طلاق مغلظہ میں حلالہ کو چھپاکر پہلے شوہر سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
90431
| تاریخ :
2025-12-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

طلاق مغلظہ میں حلالہ کو چھپاکر پہلے شوہر سے نکاح کرنا

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس کے بعد اس خاتون نے کسی اور جگہ نکاح کر لیا، پھر وہ نکاح بھی ختم ہو گیا اور وہاں سے بھی طلاق ہو گئی،اس کے بعد اس خاتون نے اپنے پہلے شوہر سے یہ کہا کہ ہماری پہلی طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تھی، اس لیے ہم دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں یا تجدیدِ نکاح کر لیتے ہیں،خاتون نے اپنی دوسری شادی کا ذکر نہیں کیا اور پہلے شوہر سے یہی کہا کہ ہم تجدیدِ نکاح کر کے دوبارہ میاں بیوی بن جاتے ہیں،چنانچہ اس شخص نے نیا حقِ مہر مقرر کر کے، گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر لیا،اب سوال یہ ہے کہ،کیا یہ دوسرا نکاح شرعاً منعقد ہوا ہے یا نہیں؟براہِ کرم اس بارے میں وضاحت فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکرکردہ طریقہ کے مطابق اگرمذکورعورت نے زوج ثانی سے طلاق لینے کے بعداس کی عدت گزارکرزوج اول سے نکاح کیاہواگرچہ نکاح کےوقت اپنے سابق نکاح کے حقائق چھپاکرغلط بیانی سے کام لیاہو تو اس کے باوجودزوج اول کے ساتھ اس کانکاح درست منعقدہوچکاہےاوروہ دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزارسکتے ہیں، تاہم اس طرح حقائق چھپا کر نکاح کرنےکی وجہ سے مذکورعورت گناہ گارہوئی ہےجس پر بصدق دل توبہ واستغفار کرنااورآئندہ جھوٹ بولنے اوردھوکہ دہی سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار:تحت(قوله وهي مسألة الھدم الآتية) أي في آخر باب الرجعة، وهي أن الزوج الثاني يھدم ما دون الثلاث كما يھدم الثلاث، فمن طلق امرأته واحدة أو أكثر ثم عادت إليه بعد زوج آخر عادت إليه بملك جديد فيملك عليھا ثلاث طلقات، وهذا عندهما الخ(ج 3ص 337)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90431کی تصدیق کریں
0     227
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات