سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک لڑکے سے ایک آن لائن پلیٹ فارم پر میسجز کے ذریعے بات کرتی تھی۔ ہم روزانہ میسجز پر چیٹ کیا کرتے تھے۔ ایک بار ہم ایک گھنٹے سے زیادہ چیٹ کر رہے تھے اور میں نے اُسے میسج کیا: "کیا آپ کو مجھ سے نکاح قبول ہے؟" تو اس نے مجھے جواب دیا: *"قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے"۔پھر اُس نے مجھے وہی سوال واپس بھیجا، اور میں نے بھی اُسے وہی جواب دیا۔اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ اُس وقت اُس کے پاس کوئی گواہ موجود تھے یا نہیں۔ ہم نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی، اور مجھے نہیں معلوم کہ اُس نے یہ پیغام کسی گواہ کو اونچی آواز سے پڑھ کر سنایا یا نہیں۔نوٹ کریں کہ میں نے کوئی وکیل (وَکیل) مقرر نہیں کیا تھا، اور میرے ولی کو بھی اس بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ میں اُس وقت بہت کم عمر تھی اور دین سے دُور تھی۔ میں نے یہ بات کبھی کسی سے شیئر نہیں کی۔سوال: کیا یہ نکاح فقہ حنفی کے مطابق درست تھا؟ مجھے بہت زیادہ وسوسے آتے ہیں کہ میں بہت گناہگار ہوں۔
واضح ہو کہ نکاح کے درست منعقد ہونے کیلئے لڑکے، لڑکی اور گواہوں کا مجلس نکاح میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے،لہذا اگر سائلہ اور مذکور لڑکے کافقط ٹکسٹ میسج پر نکاح کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا ہو تو اس سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا، تاہم سائلہ کا کسی غیر مرد کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا اور غیر ضروری بات چیت کرنا جائز نہیں تھا جس پر اسے توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے ایسے کاموں سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الد المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر ۔( ج :1 ،ص: 14 'ایچ ایم سعید)
وفي الهندية: (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد (كتاب النكاح، ج: 1، ص، 269، ط: مكتبة ماجدية)
و فی الدر المختار ایضاُ: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح اھ (ت:21)
و فی الھندیۃ ایضاُ: و منھا سماع کل من العاقدین کلام صاحبہ ھکذا فی فتاوی قاضی خان اھ( ٤/۲۶۸)