السلام علیکم ،میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک بہو ہے، وہ بیوہ ہیں اور ان کی کوئی باقاعدہ آمدنی نہیں ہے، ہم تمام رشتہ دار مل کر ان کی ماہانہ مدد کرتے ہیں، اسی سلسلے میں ایک رشتہ دار نے تقریباً 6,00,000 روپے کی رقم ان کے نام جمع کرائی، جسے انہوں نے ایک اسلامی بینک میں رکھوا دیا ہے، اور اس سے انہیں چار پانچ ہزار روپے ماہانہ منافع ملتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ان کے پاس جو بھی رقم اس وقت جمع ہے، وہ سب عطیہ (ڈونیشن) کی ہے، تو کیا اس رقم پر ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی یا نہیں؟اور ان کے پاس کچھ سونے کے زیورات بھی ہیں جو پہلے سے ان کے اپنے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا ایک بیٹا ہے جو ابھی نوکری پر نہیں ہے، بلکہ صرف تعلیم حاصل کر رہا ہے،اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔
جی ہاں!صورتِ مسئولہ میں سائل کی مذکورہ بہو کی ملکیت میں موجود سونا اور ڈونیشن کےنام پرملی ہوئی رقم (خواہ بینک میں ہویاگھر پر) بقدرِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کےبقدر) ہونے کی صورت میں سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ اس پرلازم ہے۔ نیزصاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کی رقم سے ان کی مدد کرنابھی شرعاً جائز نہیں ورنہ مالک کی زکوٰۃ ادانہ ہوگی۔
کمافی الھندیۃ: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة، الخ (کتاب الزکوٰۃ،الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض،الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة،ج1،ص178،ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الدر المختار: (وشرطہ) أی شرط افتراض أدائھا (حولان الحول) وھو فی ملکہ (وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر) لتعینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکاۃ کیفما أمسکھما ولو للنفقۃ أو (السوم) بقیدھا الآتی (أو بنیۃ التجارۃ) فی العروض، إما صریحا ولابد من مقارنتھا لعقد التجارۃ کما سیجئ، أو دلالۃ بأن یشتری عینا بعرض التجارۃ أو یؤاجر دارہ التی للتجارۃ بعرض فتصیر للتجارۃ بلانیۃ صریحاً إلخ(کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 268، ط:سعید)-
وفی الھندیۃ: (ومنھا کون النصاب نامیا) حقيقة بالتوالد والتناسل والتجارة أو تقديرا بأن يتمكن من الاستنماء بكون المال في يده أو في يد نائبه وينقسم كل واحد منهما إلى قسمين خلقي، وفعلي هكذا في التبيين فالخلقي الذهب والفضة؛(إلی قولہ) والفعلي ما سواهما ويكون الاستنماء فيه بنية التجارة أو الإسامة، (کتاب الزکاۃ، الباب الأول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا، ج: 1،ص: 174،ط:مکتبۃماجدیۃ)-
وفی البدائع: فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال، لما روي في حديث عمرو بن حزم (و الذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر) وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم مقوما بعشرة دراهم، الخ (فصل إذا كان ذهبا مفردا، ج 2، ص 421، دار الحدیث قاھرہ)-
وفی الھدایۃ: قال و تضم قيمة العروض إلى الذهب و الفضة حتى يتم النصاب، و يضم الذهب إلى الفضة للمجانسة من حيث الثمنية و من هذا الوجه صار سببا ثم تضم بالقيمة عند أبي حنيفة رحمه الله و عندهما بالأجزاء و هو رواية عنه، الخ (باب زكاة المال، فصل في العروض، ج 1، ص 192، ط: کتب خانۃ مجیدیۃ)-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0