محترم مفتی صاحب،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
مسئلہ:میرے چھوٹے بھائی کا رشتہ میری خالہ کی بیٹی سے طے پایا ہے۔ نکاح کے معاملے پر دونوں گھرانوں میں اختلاف ہو رہا ہے۔ میرے والد صاحب تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ نکاح ہمارے مکتبہ فکر (دیوبند) کے مولانا پڑھائیں، جبکہ لڑکی کے والد (میرے خالو)سرہنا سجن سائیں(کنڈیارو مرکز) سے وابستہ ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ نکاح ان کے مسلک کے مولانا پڑھائیں گے۔
سوالات:
۱. کیا ان حالات میں لڑکی والوں کے مولانا سے نکاح پڑھوانا شرعاً جائز ہے؟ کیا اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا؟
۲. اگر لڑکی والے اپنی ضد پر قائم رہیں، تو شرعی طور پر ہمیں کیا کرنا چاہیے، تاکہ رشتہ بھی نہ ٹوٹے اور شریعت کی خلاف ورزی بھی نہ ہو؟
۳. اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے کوئی بہتر شرعی حل تجویز فرما دیں، تاکہ دونوں خاندانوں میں بدمزگی نہ ہو۔
براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں، تاکہ ہم سکون کے ساتھ یہ فریضہ انجام دے سکیں۔جزاک اللہ خیر۔
واضح ہو کہ نکاح كی صحت کے لیے لڑکا لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکىلوں گا مجلس نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، اس کے علاوہ نكاح خواهں کا کلمہ گو مسلمان ہونے کے ساتھ احکام نکاح سے واقف ہونا کافی ہے، کسی خاص مسلك یا جماعت سے تعلق رکھنا شرط نہیں، لہذا اگر لڑکی والوں کے مولانا عقائد اہل سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے نکاح کے ارکان و شرائط صحیح طور پر ادا کروائىں تو ان سے نکاح پڑھانا شرعاًجائز ہے اور اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑىگا، نکاح بہرحال صحیح اور نافذ ہوگا، چنانچہ محض مسلکی تعصب یا ضد کی بنیاد پر نزاع پیدا کرنا رشتہ داری میں تلخی لانا اور خاندانوں کے درمیان اختلاف بڑھانا پسندیدہ نہیں، اس لیے دونوں خاندان وسعت قلبی سے کام لىں اور نکاح کو مسلكى انا کا مسئلہ بنانے سے گریز کریں، اور اگر ممکن ہو تو کسی متفق علیہ غير جانبدار اور ایسے معتبر عالم دین جن پر دونوں طرف كا اعتماد ہو ان سے نکاح پڑھاليا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔
كما في الهداية: قال: "ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف". [(1/ 185)]
وفي الدر المختار: ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول. [كتاب النكاح، ط: سعيد، (3/ 8)]
وفي رد المحتار: تحت (قوله: بعاقد رشيد وشهود عدول) فلا ينبغي أن يعقد مع المرأة بلا أحد من عصبتها، ولا مع عصبة فاسق، ولا عند شهود غير عدول خروجا من خلاف الإمام الشافعي. [كتاب النكاح، ط: سعيد، (3/ 8)]