میرا سوال اپنے بھائی کے لیے ہے کہ اسکی کسی لڑکی سے دوستی چل رہی تھی کافی پیار سے سمجھایا، لیکن نہیں رکا ،جب کچھ سختی کی تو اس نے لڑکی کے ساتھ ہوتے ہوئےکہا کہ `دونوں نے اللّٰہ پاک کو گواہ مان کر نکاح کر لیا ہے اس بات کی تصدیق کچھ جان پہچان والوں نے بھی کی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اس نکاح کی کیا حیثیت ہے اسلام اور قرآن پاک کے مطابق ؟
واضح ہو کہ نکاح کی صحت و درستگی کے لیے دو عاقل، بالغ، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عاقلہ بالغہ عورتوں کا مجلسِ نکاح میں بطورِ گواہ کے موجود ہونا ضروری ہے، لہٰذا سوال میں مذکور طریقہ پر کہ لڑکے کا اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اس لڑکی سے نکاح کرنے سے دونوں کے درمیان نکاح منعقد نہیں ہوا بلکہ حسبِ سابق اب بھی وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے ملنا ملانا وغیرہ فوراً ختم کریں، ورنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے۔
كما في البحر الرائق:وفي الخانية والخلاصة لو تزوج بشهادة الله ورسوله لا ينعقد ويكفر لاعتقاده أن النبي يعلم الغيب وصرح في المبسوط بأن النبي صلى الله عليه وسلم كان مخصوصا بالنكاح بغير شهود، ولا يشترط الإعلان مع الشهود لما في التبيين أن النكاح بحضور الشاهدين يخرج عن أن يكون سرا ويحصل بحضورهما الإعلان. اهـ.( كتاب النكاح،٣،ص:٨٨،مط:سعيد)
وفی الدرالمختار:(و)شرط(حضور)شاھدین(حرین)اوحروحرتین(مکلفین سامعین قولھما معاََ) (کتاب النکاح، ج:3،ص:22مط: سعید)