السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ۔ایک مسئلہ میں راہنمائی درکار ہے، ایک شخص کی تنخواہ 14 ہزار ہے اس کی بیوی کی ملکیت میں 1 تولہ سونا ہے ،اس کی ملکیت میں ایک مکان ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہے اور چار مرلہ کی جگہ جو اس کے نام پر الگ ہے جو اس کے رشتہ داروں کے قبضے میں ہے اور رشتہ دار ہی استعمال کرتے ہیں ،اس کی مالیت تقریباً 8 سے دس لاکھ ہو گی لیکن وہ جگہ اپنے قبضے میں لینے کے لئے یا سیل کرنے کے لئے اس کے فیملی میں بہت سارے مسائل ہیں یعنی وہ جگہ قریب قریب آسانی سے اسے ملنے والی نہیں ۔اس کے تین بچے ہیں ،اپنی نوکری کے ساتھ مزدوری وغیرہ بھی کر لیتا ہے اگر کہیں مل جاۓ۔ اس کی مالی حا لت انتہائی کمزور ہے بہت مشکل سے گزر بسر کر رہا ہے؟
کیا اسے زکوۃ دی جا سکتی ہے
صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ شخص کی کیفیت و حالت اگر واقعۃ ایسی ہی ہو جو سوال میں درج ہے کہ اسکی ملکیت میں ضروریات اصلیہ سے زائد سونا، چاندی نقدی یا ان کا مجموعہ بقد ر نصاب موجود نہ ہو اور جو چار مرلہ جگہ اسکے پاس ہے وہ بھی کسی اعر کے قبضے میں ہو جسے چھڑانے کی فی الحال کوئی صورت ممکن نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو تو اسکو زکوٰۃ دینے سے بلا شبہ زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
کما فی الدر المختار: و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن له نصاب سائمة لا تساوي مائة درهم :وفی الرد (تحت قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة،(ج:2،ص:347،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد المحتار: والحاصل أن النصاب قسمان: موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين. وغير موجب لها وهو غيره، فإن كان مستغرقا بالحاجة لمالكه أباح أخذهما وإلا حرمه وأوجب غيرهما من صدقة الفطر والأضحية ونفقة القريب المحرم كما في البحر وغيره.(ج:2،ص:339)
وفی الھدایۃ: ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان" لأن الغني الشرعي مقدر به والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة الأصلية وإنما النماء شرط الوجوب "ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا" لأنه فقير والفقراء هم المصارف ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها فأدير الحكم على دليلها وهو فقد النصاب۔(ج:1،ص:113)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0