نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے شادی کرنا

فتوی نمبر :
90845
| تاریخ :
2026-01-13
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے شادی کرنا

محترم مفتی صاحب،

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

یہ ایک شرعی مسئلہ آپ کی خدمت میں رہنمائی اور فقہِ حنفی کی روشنی میں فتویٰ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ گزارش ہے کہ قرآنِ کریم، سنتِ رسول ﷺ اور معتبر فقہاءِ احناف کی آراء کی روشنی میں اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائی جائے۔

مسئلے کی تفصیل

ایک مسلمان خاتون ہیں جو دیندار ہیں اور دین پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے لیے نکاح کی ایک تجویز ایسے مسلمان مرد کی طرف سے آئی ہے جو خاندانی و پس منظر کے اعتبار سے اہلِ تشیع سے تعلق رکھتا ہے۔

نکاح سے قبل اس مرد کے عقائد اور دینی طرزِ عمل کے بارے میں مکمل تحقیق کی گئی، جس کے بعد درج ذیل امور واضح اور ثابت ہوئے ہیں:

وہ مرد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا اور کسی امام، بزرگ یا فوت شدہ شخصیت کو نہیں پکارتا۔

وہ استغاثہ یا غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کے عقیدے کا قائل نہیں۔

وہ ائمہ کو انبیاء کے برابر یا ان سے بڑھ کر معصوم یا صاحبِ اختیارات نہیں سمجھتا۔

وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (خصوصاً حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم) کی توہین، سبّ و شتم یا بے ادبی نہیں کرتا۔

وہ توحید، ختمِ نبوت (حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں) اور قرآن و سنت کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہے۔

وہ اسلام کے بنیادی فرائض (نماز، روزہ وغیرہ) کا پابند ہے۔

اس نے صراحتاً اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور نکاح نامے میں تحریری طور پر درج کرانے کے لیے بھی تیار ہے کہ:

خاتون اپنے موجودہ عقیدے اور دینی طرزِ عمل پر قائم رہیں گی۔

اس نکاح سے پیدا ہونے والے بچوں کی دینی تربیت اہلِ سنت و جماعت کے مطابق کی جائے گی۔

وہ ان امور میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گا۔


شرعی پس منظر

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں”
(سورۃ البقرہ: 221)

فقہِ حنفی کے مطابق نکاح میں اصل اعتبار ایمان و اسلام کا ہے، اور جہاں صریح کفر یا شرک ثابت نہ ہو وہاں حکم مختلف ہو جاتا ہے۔

سوالات

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں فقہِ حنفی کے مطابق درج ذیل امور میں رہنمائی مطلوب ہے:

کیا ایک مسلمان خاتون کا ایسے مرد سے نکاح شرعاً درست ہے جو:

شیعہ پس منظر رکھتا ہو،

مگر کفر یا شرک کا مرتکب نہ ہو،

اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین نہ کرتا ہو؟

کیا نکاح نامے میں شوہر کی یہ تحریری شرط کہ بیوی اور بچوں کی دینی تربیت اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہوگی، شرعاً معتبر ہے؟

فقہِ حنفی کی روشنی میں اس نکاح کا حکم کیا ہوگا:

جائز
مکروہ
یا ناجائز؟


غرض و غایت

اس استفتاء کا مقصد شریعت کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرنا، عقیدے کے تحفظ کو یقینی بنانا، اور کسی بھی ممکنہ دینی نقصان سے بچنا ہے۔

جزاکم اللہ خیراً

والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقے کے عقائد ونظریات بھی مختلف ہیں، اس لئے شیعوں کے ساتھ مناکحت وغیرہ اختیار کرنےکےبارےمیں تفصیل یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں کہ مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو، یا قرآن میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنها پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآن کریم کےصریح نصوص کےخلاف کفریہ عقیدہ رکھتاہو،توایسے کفریہ عقائد کے حامل شیعہ مرد سے سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح قطعا جائز نہیں،البتہ اگر کوئی شیعہ لڑکا یہ کفریہ عقائد نہ رکھتا ہوں ، تب بھی وہ چونکہ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا کفؤ نہیں،اس لئے اولیاء کی اجازت کے بغیر ایسا نکاح درست منعقد نہیں ہوگا اور ایسے رشتوں میں نظریاتی اختلاف کی وجہ سے ہم آہنگی اور موافقت برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ،لہٰذا کسی سنی العقیدہ لڑکی کو نکاح کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لینا اور کسی سنی العقیدہ لڑکے سے رشتہ قائم کرنے کو ترجیح دینا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في تفسير ابن كثير: إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوا في الدنيا والآخرة ولهم عذاب عظيم(الى قوله) وقد أجمع العلماء رحمهم الله قاطبة على أن من سبها بعد هذا ورماها بما رماها به بعد هذا الذي ذكر في هذه الآية، فإنه كافر لأنه معاند للقرآن اھ(سورة النور:23،ج:3 ،ص:367 ،ط:قديمى كتب خانه)
وفي سنن الترمذى:عن أبي حاتم المزني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌جاءكم ‌من ‌ترضون ‌دينه ‌وخلقه فأنكحوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد»، قالوا: يا رسول الله، وإن كان فيه؟ قال: «‌إذا ‌جاءكم ‌من ‌ترضون ‌دينه ‌وخلقه فأنكحوه»، ثلاث مرات۔اھ(‌‌باب ما جاء إذا جاءكم من ترضون دينه فزوجوه،ج:1،ص429،ط:البشرى)
وفی رد المحتار: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته اھ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:4،ص:237،ط:سعيد)
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (فصل) : ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ،( کتاب النکاح فصل المعاشرة بالمعروف ج:2، ص:334، مط: دار الكتب العلمية وغيرها)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90845کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات