بھانجے کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کے والد صاحب صاحبِ نصاب ہوں اور سب ایک ساتھ رہتے ہوں، وہ رکشہ چلاتا ہے اور بچوں کو ناظرہ قرآن بھی پڑھاتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور بھانجے کا والد اگرچہ صاحب نصاب ہو، لیکن اگر بھانجا بالغ اور مستحق زکوٰۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کے بقدر مال تجارت ، نقدی اور گھریلو ضرورت سے زائد سامان وغیرہ نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو اُسے زکوٰۃ دینا شرعا جائز ہے، ورنہ نہیں ۔
کما فی الدر: (مصرف الزكاة والعشر) (الی قوله) (هو فقیر وهو من له أدنی شیٔ) ای دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة (إلی قوله) (وفی سبیل الله هو منقطع الغزاة) وقیل الحاج وقیل طلبة العلم. اهـ (ج2، ص339 – 343)-
و في الفتاوى الهندية: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى، (ج:1، ص:170)-
و فیہ ایضا::"وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. وفي الظھيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، (باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص: 346، ط: سعید)-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0