کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمٰی رحیم خان ایک ڈرائیور ہوں ،تنخواہ سے بمشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ،میرا کوئی اپنا ذاتی گھر نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس جمع شدہ نقدی ہے،نہ سونا چاندی ہے،نہ ہی میں سیّد ہوں،کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم لے کر گھر بنا سکتاہوں،یا اپنی ضروریات میں خرچ کرسکتا ہوں، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر واقعۃً مستحق زکاۃ ہو ، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی ،مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان موجودنہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کیلئے زکوٰۃ وصول کرکے اپنی ذاتی ضروریات یا گھر کی تعمیر پر خرچ کرنے کی اجازت ہے، اور اس سے اصل مالک کی زکاۃ بھی ادا ہو جائے گی،مگر سائل کیلئے اس سلسلہ میں لوگوں سے از خود سوال کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ کسی ذریعہ سے مخیّر حضرات کو علم ہوجائے،اور وہ سائل کے ساتھ زکوٰۃ کی مدمیں تعاون کریں تو اس کی گنجائش ہے۔
کما فی القرآن المجید: انما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم(التوبۃ:60)الآیۃ
و فی سنن ابی داؤد: عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تحل الصدقة لغني، إلا في سبيل الله، أو ابن السبيل، أو جار فقير يتصدق عليه، فيهدي لك أو يدعوك(باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ و ھو غنی ، ج :1،ص:723،رقم: ٓ1657،م:البشرٰی)
وفي الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ( باب المصرف،ج: 2، ص:339،م:کراچی)
وفی الھندیۃ: ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسباكذافی الزاهدي (الباب السابع فی المصارف ،ج: 1 ،ص: 189 ،م: ماجدیۃ۔)
وفی البحر الرائق:و أما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام: " لاتحل صدقة لغني"خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة، كذا في البدائع(باب المصرف ،ج:2،ص:245،م: رشیدیۃ۔)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0