سوال:اگر باپ جان بوجھ کر بیٹی کے نکاح میں تاخیر کر رہا ہو، بغیر کسی شرعی عذر کے نکاح میں رکاوٹ بن رہا ہو، بیٹی کی کفالت اور نان نفقہ بھی ادا نہ کر رہا ہو، اور بیٹی کسی کفو (مناسب) رشتے پر راضی ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟
اہلِ حدیث حضرات کا واضح موقف:
اہلِ حدیث کے نزدیک اگر باپ بلا شرعی عذر بیٹی کے نکاح میں رکاوٹ بنے، جان بوجھ کر تاخیر کرے اور اس کے نان نفقہ کی ادائیگی بھی نہ کرے تو وہ ولیِ عاضل شمار ہوتا ہے۔ ایسے ولی کی ولایت ساقط ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد ولایت ترتیب کے مطابق اگلے ولی (دادا، بھائی، چچا وغیرہ) کو منتقل ہو جاتی ہے اور اگر کوئی بھی ولی موجود نہ ہو یا سب رکاوٹ بنیں تو حاکمِ شرع یا قاضی ولی بن کر نکاح کروا سکتا ہے۔
اہلِ حدیث کے نزدیک عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کا ہونا لازم ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ لڑکی بالغ اور راضی ہو، رشتہ کفو میں ہو، مہر مقرر ہو اور دو گواہ موجود ہوں۔
حضرات احناف کا واضح موقف:
اس حوالے سے حضرات احناف کا مؤقف بیان کریں تاکہ تسلی ہو جائے کیونکہ میں خود حنفی ہوں ۔جزاک اللہ خیراً
حضرات فقہاء احناف کے نزدیک عاقلہ بالغہ لڑکی کفو میں ولی کی اجازت کے بغیر اگر چہ خود اپنا نکاح کر سکتی ہے لیکن ایسا کرنا ناپسندیدہ ہے ،لہذا اگر کسی عاقلہ بالغہ لڑکی کا ولی بلا سبب شرعی اس کے نکاح میں روکاوٹ پیدا کررہا ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر بھی کفؤ میں نکاح کرسکتی ہے ،تاہم محض جذبات کی رو میں بہہ کر اولیاء کی رضامندی کے بغیر کیا گیا نکاح مختلف پریشانیوں اور آزمائشوں کا باعث بن جاتا ہے ،چنانچہ نکاح جیسے اہم معاملہ میں خود فیصلہ لینے کی بجائے اولیاء اور خاندان کے بڑوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی رائے کو اہمیت اور ترجیح دینی چاہیے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن عبدالله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضي الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد،(كتاب الْآدَاب، بَاب الْبر والصلة، الْفَصْل الثَّانِي، ج:3 ص:1379،مط: المکتب الاسلامی۔)
و فی الدر : فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والاصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا اھ، (كتاب النكاح،باب الولي،ج:3،ص: 173،مط: دارالکتب العلمیہ۔)
و فی البدائع : الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض اھ،(كتاب النكاح،فصل ولاية الندب والاستحباب في النكاح ج:2، ص:247،مط: دارالکتب العلمیہ۔)