زکوٰۃ بہن بھائیوں کو دینے کا حکم اسلام میں کیا ہے بتا کے دینا یا رازداری کے ساتھ؟
بہن بھائی اگر مستحق زکوٰۃ اور غیر سید ہوں تو زکوٰۃ کی رقم سے ان کی معاونت کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے ، جبکہ انہیں زکوٰۃ کی رقم زکوٰۃ کہہ کر دینے کے بجائے کسی دوسرے عنوان سے دینا زیادہ بہتر ہے، تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔
کما فی ردالمحتار:تحت(قولہ والی من بینھما ولاد)ای بینہ وبین المدفوع الیہ(الیٰ قولہ)وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة اھ(باب مصرف الزکوٰۃ والعشر،ج:2،ص:346،ناشر:سعید)
وفی العالمگیریۃ:والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم اھ(الباب السابع فی المصارف،ج:1،ص:190،ناشر:ماجدیہ)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0