نکاح

شیعہ مسلک چھوڑے ہوئے لڑکے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
91063
| تاریخ :
2026-01-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شیعہ مسلک چھوڑے ہوئے لڑکے سے نکاح کا حکم

السلام علیکم ایک شیعہ لڑکا جس نے اپنا مسلک چھوڑدیا ہو ،اور اب وہ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہو ،تو کیا ان سے نکاح جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور شخص اگر وا قعۃً اپنے باطل عقائد سے دستبردار ہوکر اہل سنت والجماعت میں داخل ہوچکا ہو ،تو ایسی صورت میں کسی سنی لڑکی کیلئے اس سے نکاح کرنے کی اگرچہ گنجائش ہوگی ،تاہم اہل تشیع کے نزدیک چونکہ تقیہ بھی مذہب کے بنیادی عقائد میں سے ہے ،لہذا ایسے شخص کے بجائے اگر کسی صحیح العقیدہ سنی مسلمان شخص سے نکاح کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: مطلب مهم في حكم سب الشيخين وأقول: على فرض ثبوت ذلك في عامة نسخ الجوهرة لا وجه له يظهر، لما قدمناه من قبول توبة من سب الأنبياء عندنا خلافا للمالكية والحنابلة، وإذا كان كذلك فلا وجه للقول بعدم قبول توبة من سب الشيخين بل لم يثبت ذلك عن أحد من الأئمة فيما أعلم اهـ ونقله عنه السيد أبو السعود الأزهري في حاشية الأشباه ط. أقول: نعم نقل في البزازية عن الخلاصة أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ.،وهذا لا يستلزم عدم قبول التوبة. على أن الحكم عليه بالكفر مشكل،(کتاب الجھاد ،باب المرتد،ج:4،ص:237،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91063کی تصدیق کریں
0     127
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات