نکاح

گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے دستخط کرنے سے نکاح منعقد ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
91099
| تاریخ :
2026-01-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے دستخط کرنے سے نکاح منعقد ہونے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، محترم مفتی صاحب! درج ذیل واقعہ کی روشنی میں براہِ کرم فقہِ حنفی کے مطابق شرعی حکم واضح فرمائیں:سوال: میں لائبہ (بالغ، عاقل) ہوں۔ میرا نکاح میرے گھر والوں نے میری صریح ناپسندیدگی اور عدمِ رضا کے باوجود کروایا۔ مجھے گھر میں بند رکھا گیا اور شدید ذہنی دباؤ میں رکھا گیا۔نکاح سے چند دن پہلے مجھ سے دھوکے کے ذریعے ایک Affidavit پر دستخط کروائے گئے جس میں تحریر تھا کہ میں یہ نکاح اپنی مرضی سے کر رہی ہوں. اور میرے بھائی کو مکمل علم تھا کہ میں اس نکاح پر ہرگز راضی نہیں ہوں نکاح کے وقت جب قاضی نے پہلی مرتبہ مجھ سے پوچھا تو میں نے صاف الفاظ میں نکاح سے انکار کیا۔ اس کے باوجود میرے بھائی نے قاضی کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ میں والد کی یاد میں گھبرا رہی ہوں۔بعد ازاں لڑکے کو میرے پاس بھیجا گیا، جس نے کہا کہ وہ خود مجبور ہے، اس کا پاسپورٹ اس کے والد نے ضبط کر رکھا ہے، اور یہ کہ وہ بیرونِ ملک جا کر مجھے چھوڑ دے گا، اس لیے فی الحال نکاح قبول کر لوں۔ میں نے شدید ذہنی دباؤ، جانی نقصان کا خوف اور مجبوری کی حالت میں زبان سے قبولیت کے الفاظ کہہ دیے، مگر دل سے اس نکاح کو کبھی قبول نہیں کیا۔نکاح کے بعد: کوئی رخصتی نہیں ہوئی ، میاں بیوی کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا ، میں ابتدا ہی سے اس نکاح کو ناحق اور جبر پر مبنی سمجھتی ہوں ، استفسار: کیا فقہِ حنفی کے مطابق ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوتا ہے؟ کیا اکراہ (زبردستی)، دھوکہ، اور دل کی عدمِ رضا کے ساتھ زبان سے قبولیت معتبر ہے؟ کیا ایسا نکاح باطل / فاسد شمار ہو گا یا شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا؟ کیا اس صورت میں میرے لیے طلاق، خلع یا عدت لازم آتی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم واضح اور صریح شرعی حکم مع حوالہ (اگر ممکن ہو) ارشاد فرمائیں۔ والسلام ، لائبہ.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں جب سائلہ نے لڑکے کے اصرار و استفسار پر بے دلی ہی سے سهى، مگر نکاح قبول کر لیا، تو شرعا یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے، اب سائله اور مذکور لڑکا نکاح کے بندھن میں بند چکے ہیں، جس سے جدائی کے لیے طلاق و خلع جیسےاسباب اختیار کرنا ضروری ہوگا،اس کے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت)اهـ (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 9، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: والمرأة إذا ‌أكرهت ‌على ‌النكاح ففعلت صح النكاح ولا ترجع على المكره.اهـ (كتاب الإكراه، ج: 5، ص: 53، ط: مكتبة ماجدية)
وفي البدائع الصنائع: فأما إذا أكرهت المرأة، فإن كان المسمى في النكاح قدر مهر المثل أو أكثر منه جاز النكاح ولزم، وإن كان المسمى أقل من مهر المثل بأن ‌أكرهت ‌على ‌النكاح بألف درهم، ومهر مثلها عشرة آلاف فزوجها أولياؤها وهم مكرهون جاز النكاح لما ذكرنا، وليس للمرأة على المكره من مهر مثلها شيء.اهـ (كتاب الإكراه، ج: 7، ص: 185، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: وإذا ‌أكرهت ‌المرأة ‌على ‌النكاح ففعلت فإنه يجوز العقد ولا ضمان على المكره بحال ثم ينظر إن كان الزوج كفئا والمسمى أكثر من مهر المثل أو مثله جاز، وإن كان أقل من مهر المثل وطلبت التبليغ إلى مهر مثلها يقال له إما أن تبلغ إليه وإلا فارقها فإن بلغ فبها ونعمت، وإن فارقها قبل الدخول لا يلزمه شيء، وإن دخل بها وهي مكرهة فهذا رضا منه للتبليغ إلى مهر المثل، وإن دخل بها طائعة فهذا رضا منها بالمسمى إلا أن للأولياء الاعتراض عليها عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى –اهـ(كتاب النكاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها، ج: 1، ص: 294، ط: مكتبة ماجدية)
وفي الدر المختار أيضا: ولا يشترط العلم بمعنى الإيجاب والقبول فيما يستوي فيه الجد والهزل إذ لم يحتج لنية به يفتى.إلخ
وفي رد المحتار: قال في الفتح لو لقنت المرأة زوجت نفسي بالعربية ولا تعلم معناه وقبل والشهود يعلمون ذلك أو لا يعلمون صح كالطلاق ومثل هذا في جانب الرجل إذا لقنه ولا يعلم معناه وهذه من جملة مسائل الطلاق، والعتاق، والتدبير، والنكاح، والخلع، فالثلاثة الأول واقعة في الحكم ذكره في عتاق الأصل في باب التدبير، وإذا عرف الجواب قال قاضي خان: ينبغي أن يكون النكاح كذلك؛ لأن العلم بمضمون اللفظ إنما يعتبر لأجل القصد فلا يشترط فيما يستوي فيه الجد والهزل.اهـ (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 15-16، ط: ايج ايم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91099کی تصدیق کریں
0     129
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات