نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے شادی کرنا

فتوی نمبر :
91146
| تاریخ :
2026-01-19
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے شادی کرنا

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"محترم عالم میں آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں، ایک ذاتی اور نہایت اہم معاملے میں جو سات سال سے میری زندگی پر اثر ڈال رہا ہے، میری عمر 29 سال ہے اور میں ایک سنی مسلم (دیوبندی) خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، میں ایک مسلم لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں جو شیعہ ہے، لیکن اس کے عقائد مکمل طور پر اسلامی حدود میں ہیں، اس کے خاندان میں کئی لوگ سنی بھی ہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسی بات پر ایمان نہیں رکھتا جو کفر کے زمرے میں آتی ہو، جیسے کہ قرآن کی تحریف پر ایمان، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کو نہ ماننا، یا دیگر خلفائے راشدین یا صحابہ کرام پر بے عزتی کرنا، اس کا تمام صحابہ کرام نبی ﷺ اور امت مسلمہ سے انتہائی احترام اور عقیدت ہے، اور وہ اہل بیت کی بھی بڑی عزت کرتا ہے،میرے والد نے اس سے کئی بار ملاقات کی ہے اور اسے بہت پسند کیا ہے، وہ اس کے کردار، اخلاق اور ایمانداری سے مطمئن ہیں، میرے بڑے بھائی" جو بیرون ملک رہتے ہیں" بھی کہتے ہیں کہ وہ اچھا ہے، تاہم میری والدہ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے والد اور بھائی کسی بھی فیصلے پر کھڑے نہیں ہو پا رہےاور کوئی بھی میری حمایت نہیں کر رہا،میری والدہ نے کبھی بھی اس لڑکے یا اس کے خاندان سے ملاقات نہیں کی، اور نہ ہی کسی عالم یا مفتی سے اس کے عقائد کی تصدیق کرنے کی اجازت دی، ان کا فیصلہ سماجی غلط فہمیوں پر مبنی ہے، نہ کہ لڑکے کے ذاتی عقائد پر، وہ اکثر کہتی ہیں کہ اگر میں ان کی مرضی کے خلاف جاؤں تو میں “کافر” ہوں یا مسلمان نہیں رہی، وہ مجھے کبھی سنتی نہیں، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی،میں خود کو مکمل طور پر تنہا محسوس کرتی ہوں، کوئی میری بات نہیں سنتا، اور میرے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ میں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں، میری زندگی اس غیر یقینی صورتِحال میں ضائع ہو رہی ہے، اور اس لڑکے کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، میں پختہ یقین رکھتی ہوں کہ اللہ نے ہر مسلمان کو اپنی زندگی اور نکاح کے بارے میں حق دیا ہے، میں والدین کی نافرمانی نہیں کر رہی ، میں صرف چاہتی ہوں کہ یہ معاملہ اسلامی رہنمائی کے مطابق طے ہو، نہ کہ خوف دباؤ یا سماجی تاثرات کی بنیاد پر،اس لڑکے نے صرف میرے والد سے نیک نیتی سے نِکاح کی اجازت مانگی ہے، وہ بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ کسی بھی مفتی یا عالم سے ملاقات کے لیے تیار ہے تاکہ ایمانداری سے ہر سوال کا جواب دے سکے اور اگر ضرورت ہو تو فتویٰ بھی حاصل کرے، تاہم میری والدہ اس کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ ان کے خیال میں اگر وہ نہ چاہیں تو کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے، چاہے کوئی فتویٰ موجود ہو یا نہ ہو، یہ میرے اسلامی حقوق اور ذاتی انتخاب کے بالکل خلاف ہے، اللہ نے ہر مسلمان کو اپنی زندگی کے فیصلے کا حق دیا ہے، اور صرف اس لیے کہ میں لڑکی ہوں، مجھے ہر بات بلاوجہ تسلیم کرنے پر مجبور کیوں کیا جائے؟ اس لڑکے نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شادی کے ہر پہلو بشمول رسومات میں مکمل طور پر والد کی مرضی کا احترام کرے گا، اور میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ میرے والد کبھی شرمندہ یا دل شکستہ نہ ہوں،میں عاجزی کے ساتھ آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں کہ کیا میں اس لڑکے سے شادی کر سکتی ہوں، جبکہ اس کے عقائد اسلامی حدود میں ہیں اور میں کس طرح عمل کروں کہ اللہ کے سامنے صحیح ہوں اور اپنی والدین کی عزت بھی بر قرار رہے؟ میں چاہتی ہوں کہ یہ معاملہ صرف اللہ کی رضا کے لیے طے ہو، اور میں اسے مکمل طور پر اللہ کے ہاتھوں میں چھوڑتی ہوں،جزاک اللہ خیراً آپ کے وقت اور رہنمائی کے لیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عقائد ایک مخفی چیز ہے، جس کے بارے میں کسی دوسرے بندے کا یقینی طور پر رائے دینا ممکن نہیں ہوتا ، لیکن متعلقہ شخص سے بات چیت اور سوال و جواب سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، لہٰذا سوال میں مذکور لڑکے کا شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے کےباوجود اس فرقہ کے جملہ عقائد کے خلاف عقیدہ رکھنا اگرچہ ممکن ہے، لیکن شیعوں کے ہاں عقائد کے باب میں تقیہ(عقیدہ چھپانے) سے بھی کام لیا جاتا ہے، اس لئے معتمد لوگوں کے سامنے اس کا سوال و جواب کئے بغیر اس کی بات پر اطمینان کرنا مناسب نہیں۔ نیز اگر مذکور لڑکا ان کفریہ عقائد کا حامل نہ بھی ہو ، تب بھی اہلِ سنت والجماعت کے ساتھ مختلف امور اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سےخود سائلہ اور بچوں کیلئے مستقبل میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اس لئے سائلہ کا جذباتی ہوکر والدہ سے بدگمان ہونا یا انہیں ناراض کرکے کوئی اقدام کرنا قطعاً مناسب نہیں، بلکہ اللہ رب العزت سے عافیت اور اچھے ،دیندار رفیقِ حیات کیلئے دعا کرتی رہنا چاہیئے،امید ہے کہ سائلہ کے حق میں بہتر فیصلہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃؓ او انکر صحبۃ الصدیقؓ او اعتقد الالوھیہ فی علیؓ او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذالک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ (ج۴، ص۲۳۷ ،ط:سعید) ـ
وفیہ ایضا: ولا یخفی ان قولہ یا رافضی بمنزلۃ یا کافر او یا مبتدع فیعزر لان الرافضی کافر إن کان یسب الشیخین، مبتدع ان فضل علیّا علیھما من غیر سب۔ (ج۴:، ص۷۰ ،ط:سعید)
وفی الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر -رضي الله تعالى عنه- لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة -رضي الله تعالى عنها- بالزنا كفر بالله، (إلی قوله) من أنكر إمامة أبي بكر الصديق -رضي الله عنه-، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر -رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية. (ج:۲،ص:۲۶۴،ط:ماجدیہ)
و فی تبیین الحقائق:و عن ابی حنیفة و ابی یوسف انہ لایجوز فی غیر الکف لأن کثیرا من الاشیاء لا یمکن دفعہ بعد الوقوع و اختار بعض المتأخرین الفتویٰ بہذہ الروایة لفساد الزمان(باب الاولیاء و الاکفاء،ج:۲،ص:۴۹۵،ط:دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91146کی تصدیق کریں
0     47
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات