علماء اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے کہ مجھے varicocele ایک بانجھ پن کی بیماری ہےجس میں اولاد کے نہ ہونے کے چانسز ہوتے ہیں
تو میرے ماں باپ شادی کا سوچ رہے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ اگر بچے پیدا نہ ہوے تو میری گھر والی مجھے بددعائیں دے گی تو کیا مجھے اس مسئلہ کی وجہ سے نکاح کر لینا چاہیے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جو بیماریاں ازدواجی رشتہ میں رکاوٹ بنیں یا اس کی نوعیت ایسی ہو کہ جن کا علاج بظاہر آسان نہ ہو تو نکاح سے قبل ایسی بیماریاں چھپانا دھوکہ دہی ہے،جوکہ ناجائز ہے،بلکہ نکاح اور منگنی سے قبل اس بیماری کا اظہار کر دینا چاہئے ،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بدمز گی پیدا نہ ہو،البتہ ایسی چھوٹی موٹی بیماریاں جو ازدواجی رشتے میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کا علاج بھی بظاہر آسان ہو تو رشتہ طے کرنے سے پہلے ا یسی بیماریوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے۔لہذا سائل اپنی بیماری کی نوعیت دیکھ کر اسی کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله أنزل الداء والدواء، وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام» اھ.(كتاب الطب، باب في الأدوية المكروهة، ج:6، ص:23، ط: دار الرسالة العالمية)
و فی الشامی:ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحياناولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة. ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها نهر بحثا." اھ(كتاب النكاح، باب القسم بين الزوجات، ج:3، ص:202، ط: سعيد)
و فی احیاء العلوم للغزالی:والغرور یقع فی الجمال والخلق جمیعاً فیستحب ازالۃ الغرور فی الجمال بالنظر وفی الخلق بالوصف والاستیصاف فینبغی ان یقدم ذلک علی النکاح ولایستوصف فی اخلاقھا وجمالھا الا من ھو بصیرصادق خبیر بالظاھر والباطن ولا یمیل الیھا فیفرط فی الثناء ولا یحسدھا فیقصر فالطباع مائلۃ فی مبادی النکاح ووصف المنکوحات الی الافراط والتفریط وقل من یصدق فیہ ویقتصد بل الخداع والاغراء اغلب والاحتیاط فیہ مھم لمن یخشی علی نفسہ التشوف الی غیر زوجتہ اھ(کتاب آداب النکاح،ج:۲،ص:۳۹،ط: دار المعرفة)۔