میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں لیکن وہ لڑکا شیعہ ہے، لیکن گستاخِ صحابہ نہیں ہے۔ میرے والدین مان نہیں رہے، میں نکاح کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ مان نہیں رہے۔ کہتے ہیں کہ اسلام میں اجازت نہیں، لیکن وہ پانچ وقت نماز پڑھتا ہے، صحابہ کو مانتا ہے، قرآن پڑھتا ہے، لیکن گھر والے مان نہیں رہے۔ سات سال ہو گئے ہیں میں منا رہی ہوں۔
واضح ہوکہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقے کے عقائد ونظریات بھی مختلف ہیں، اس لئے شیعوں کے ساتھ مناکحت وغیرہ اختیار کرنےکےبارےمیں تفصیل یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں کہ مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو، یا قرآن میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنها پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآن کریم کےصریح نصوص کےخلاف کفریہ عقیدہ رکھتاہو،توایسے کفریہ عقائد کے حامل شیعہ مرد سے سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح قطعا جائز نہیں،البتہ اگر کوئی شیعہ لڑکا یہ کفریہ عقائد نہ رکھتا ہوں ،لیکن تب بھی وہ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا کفؤ نہیں، لہٰذا سائلہ کو والدین کی مرضی کے خلاف کسی جگہ نکاح کرنے پر اصرار کرنے کے بجائے والدین کی رضامندی اور خوشی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کسی پابندِ شریعت دیندار گھرانے میں نکاح کرنے کو ترجیح دینی چاہیئے اور چونکہ فی الحال وہ لڑکا سائلہ کے حق میں اجنبی و نامحرم ہے، اس لیے اس سے کسی قسم کا تعلق بات چیت یا بے تکلفی کا قائم کرنا بھی ناجائز و حرام ہے، اس لیے اس سے بھی احتراز لازم ہے۔
کما في تفسير ابن كثير: إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوا في الدنيا والآخرة ولهم عذاب عظيم(الى قوله) وقد أجمع العلماء رحمهم الله قاطبة على أن من سبها بعد هذا ورماها بما رماها به بعد هذا الذي ذكر في هذه الآية، فإنه كافر لأنه معاند للقرآن اھ(سورة النور:23،ج:3 ،ص:367 ،ط:قديمى كتب خانه)
وفي سنن الترمذى:عن أبي حاتم المزني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد»، قالوا: يا رسول الله، وإن كان فيه؟ قال: «إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه»، ثلاث مرات۔اھ(باب ما جاء إذا جاءكم من ترضون دينه فزوجوه،ج:1،ص429،ط:البشرى)
وفی رد المحتار: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته اھ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:4،ص:237،ط:سعيد)
و فيہ ایضا: (قوله يا رافضي) قال في البحر: ولا يخفى أن قوله يا رافضي بمنزلة يا كافر أو يا مبتدع فيعزر؛ لأن الرافضي كافر إن كان يسب الشيخين مبتدع إن فضل عليا عليهما من غير سب كما في الخلاصة. اهـ.(باب التعزير ،ج:4،ص:70،ط:سعيد )
وفي الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر رضي الله تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها بالزنی كفر بالله إلى قوله من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر - رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية اھ(الباب فى أحكام المرتدين،ج:2،ص 264،ط:ماجدية)۔