نکاح

پھوپھی اور اسکی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

فتوی نمبر :
91295
| تاریخ :
2026-01-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

پھوپھی اور اسکی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم،
جناب عالم دین! السلام علیکم!
کیا کہتے ہیں علمائے دین شرع و حدیث کی روشنی میں چند سوالات کے جوابات کی زحمت قبول فرمائیں۔
"کیا سگی پھوپھی و بھتیجی کا نکاح ایک ہی آدمی کے ساتھ ہو سکتا ہے؟"
"اگر کسی ایک مرد نے پھوپھی کے ساتھ پہلے نکاح کیا اور بعد میں اسی پھوپھی کی سگی بھتیجی کے ساتھ نکاح کر لیا۔"
"کیا جس پھوپھی کا نکاح پہلے کیا اور بعد میں اسی پھوپھی کی سگی بھتیجی کے ساتھ نکاح کر لینے سے پہلے والا (پھوپھی کا) نکاح ٹوٹ گیا؟"
"کیا سگی پھوپھی اور بھتیجی کا نکاح ایک ہی مرد کے ساتھ جائز ہے یا ناجائز؟ کیا پھوپھی اور بھتیجی ایک ساتھ ایک ہی مرد کے نکاح میں بیویوں کی حیثیت سے رہ سکتی ہیں یا نہیں؟"
"کیا پھوپھی اور بھتیجی دونوں میں سے کسی ایک کو طلاق دینا پڑے گا؟"
"جس جگہ پر یہ سگی پھوپھی جس آدمی کے ساتھ نکاح میں تھی، اسی آدمی کے ساتھ اسی پھوپھی کی سگی بھتیجی کا نکاح کیا گیا ہو، تو اس نکاح میں جتنے لوگ بیوی والے شامل تھے، ان کے بارے میں شریعت اور حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟"

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پھوپھی بھتیجی کے درمیان چونکہ محرمیت کا رشتہ ہے، لہذا دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا شرعاً جائز نہیں ،چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر یہ نکاح شرعی مسئلہ سے لاعلمی میں کیاگیا ہو تو یہ نکاح درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ دوسرا نکاح فاسد ہے، لہذا شوہر پر یہ لازم ہے کہ الفاظ متارکت کہہ کر دوسری بیوی کو علیحدہ کردے،تاکہ عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو،نیز دوسری بیوی کےساتھ اگر صحبت کرلی ہو تو مہر بھی لازم ہوگا،اسی طرح جب تک دوسری بیوی کی عدت ختم نہ ہوجائے, شوہر کیلئے پہلی بیوی کیساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے کی بھی اجازت نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما جاء فی التنزیل العزیز: وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا(النساء ایۃ :43)
و فی الہندیۃ: والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها، الخ(کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،ج:1،ص:271،ط:ماجدیہ)
وفیہا ایضا: وإن تزوجهما في عقدتين فنكاح الأخيرة فاسد ويجب عليه أن يفارقها ولو علم القاضي بذلك يفرق بينهما فإن فارقها قبل الدخول؛ لا يثبت شيء من الأحكام وإن فارقها بعد الدخول فلها المهر ويجب الأقل من المسمى ومن مهر المثل، وعليها العدة ويثبت النسب ويعتزل عن امرأته حتى تنقضي عدة أختها، كذا في محيط السرخسي.
وفی الشامیۃ: في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق،(کتاب النکاح:باب المہر،مطلب فی النکاح الفاسد،ج:3، ص:133،ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91295کی تصدیق کریں
0     128
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات