السلام علیکم !
کیا مسجد کی تعمیر پر زکوٰۃ لگا سکتے ہیں ؟
زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم براہ راست مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا شرعا جائز نہیں اور اس سے مالکان کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی ،لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے،البتہ ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی اگر مسجد کی تعمیر کے اخراجات کا کوئی انتظام نہ ہوسکے تو ایسی صورت میں کسی مستحق زکوٰۃ کو مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کی ترغیب دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ کسی جاننے والے سے قرض لے کر مسجد کی تعمیر میں لگا دی جائے اس کے بعد اس کی اجازت سے اس کا قرضہ زکوٰۃ کی رقم سے ادا کردیا جائے یا پھر اگر قرض دینے کیلئے کوئی تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں زکات کی رقم کسی مستحق زکات کو مالک بناکر دے دی جائے، پھر اسے مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دی جائے، اگر وہ اپنی خوشی سے زبردستی کئے بغیر مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالتا ہے تو ایسی صورت میں یہ اس کے لیے باعث اجر ہوگا۔ اور اگر وہ مسجد کی تعمیر میں نہیں دیتا تو اس پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنا یا اس سے شکوہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
کما فی الفتاوى الهندية : ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي. (ج:1،ص:188 دار الفكر بيروت وغيرها )
و فیہ ایضاً: إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز (والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت) ، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه.
(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة اھ (ج:6،ص: 392، دار الفكر بيروت)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0