نکاح

غیر کفو میں کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
91317
| تاریخ :
2026-01-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر کفو میں کئے ہوئے نکاح کا حکم

میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھانجے یعنی بہن کے بیٹے سے کر دی ہے، جو کہ مالدار خوبصورت اور اچھی نوکری والا ہے، یہ شادی پورے خاندان کے سے سامنے ہوئی، اور سب کو معلوم ہے کہ وہ میرے بھانجے کی بیوی ہے ،میری بیٹی نے یہ شادی اپنی خوشی سے کی تھی ،اس میں کسی قسم کی زبردستی نہیں تھی، ہم ایک ہی ذات کے ہیں اس شادی کو چار سال ہو گئے ہیں، ایک بیٹی ہے جو تین سال کی ہے، میری بیٹی کا سسرال میں دل نہیں لگ رہا تھا تو میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس نے ایک شادی اور کی ہوئی ہے یعنی نکاح کیا ہوا ہے جب میں نے تحقیق کی تو یہ بات درست نکلی۔
ووسرے شخص کو میں نے بلایا اس معاملے پر بات کی لیکن اس نے ماننے سے انکار کر دیا اور جھوٹی قسمیں اور کلمے اٹھا لیے، وہ شخص پہلے سے شادی شدہ ہے چار بچوں کا باپ ہے وہ ہماری فیملی سے تعلق نہیں رکھتا وہ غیر ذات کا ہے ،شکل و صورت بھی خاص نہیں ہے اور نہ ہی مالدار ہے اور میری بیٹی سے دس سال بڑا ہے نکاح کے وقت میری بیٹی 24 سال کی تھی،پر نکاح چوری چپے گھر والوں کی مرضی کے خلاف ہوا، اور پانچ سال ہو گئے ہیں میری بیٹی کے مطابق یہ نکاح ایک فلیٹ میں ہوا ،گواہوں کی موجودگی میں ہوا ،لیکن بیٹی کو معلوم نہیں گواہ کون تھے ،اب جب ہم گھر والے اس شخص سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ میں طلاق دینے کے لیے تیار ہوں ،لیکن جب وہ میری بیٹی سے بات کرتا ہے تو انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھے چھوڑنا نہیں چاہتی تو میں بھی نہیں چھوڑتااس وقت میری بیٹی اپنے شوہر یعنی میرے بھانجے کے گھر رہتی ہیں جو کہ اس کے مطابق دوسری نہ ہونے والی شادی ہے، تین سال کی ایک بیٹی بھی ہے جس کی کفالت میرا بھانجا کررہا ہے اور جس کے متعلق میری بیٹی کا کہنا ہے کہ جس وقت میرے بھانجے سے نکاح ہوا تو اس وقت اس دوسرے شخص سے حمل کی کوئی صورت نہیں تھی ،اور اس پانچ سال کے عرصے میں اس دوسرے شخص نے میری بیٹی کو کچھ نہیں دیا میری بیٹی جو اس کو ملتی تھی رات کو گھر پر ہوتی تھی،براہِ کرام شریعت کی روشنی میں ہماری مدد فرمائیں۔
نوٹ: بچی نے جو پہلا رشتہ کیا ہے وہ غیر خاندان میں ہے اور غیر کفو میں ہے مالی لحاظ سےوہ ہم سے کم ہے اور ہماری برادری کے لوگ ان کے برادری میں یعنی غیروں میں رشتہ نہیں دیتے اور مہر بھی دیا تھا جو کہ برابر ہے ،اس صورت میں کیا حکم ہے کیا پہلے والے شوہر سے طلاق لینا ضروری ہے اگر طلاق لیتی ہے تو عدت کا کیا حکم ہے؟ اس طرح ان حالات میں دوسری نکاح کا کیا حکم ہے؟اور کیا پھر سے تجدید نکاح کرنا ہوگا؟
نوٹ: پہلے خاوند نے میری بیٹی کو طلاق دیدیا ہے طلاق نامہ منسلک ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کی بیٹی نے جس شخص کے ساتھ چھپ کر نکاح کیا تھا وہ اگر واقعۃً سائلہ کی بیٹی کا کفو اور ہم پلہ نہیں تھا اور نکاح بھی اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر مہر مثل سے کم پر ہوا تھا تو امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے مفتی بہ قول کے مطابق یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ،لہذا سائلہ کی بیٹی کا سائلہ کے بھانجے کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں اولیاء کی اجازت و رضامندی کے ساتھ ہونے والا نکاح شرعاً درست منعقد ہوا ہے اور دونوں کا میاں ، بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز اور درست ہے ،تاہم سائلہ کی بیٹی کا چھپ کر کسی شخص کے ساتھ تعلق قائم رکھنا جائز نہیں تھا جس پر اسے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے ایسے کاموں سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار مع رد المحتار: (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ ۔۔۔۔۔(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر. وأما إذا لم يكن لها ولي فهو صحيح نافذ مطلقا اتفاقا كما يأتي لأن وجه عدم الصحة على هذه الرواية دفع الضرر عن الأولياء، أما هي فقد رضيت بإسقاط حقها فتح، وقول البحر: لم يرض به يشمل ما إذا لم يعلم أصلا فلا يلزم التصريح بعدم الرضا بل السكوت منه لا يكون رضا كما ذكرناه فلا بد حينئذ لصحة العقد من رضاه صريحا، وعليه فلو سكت قبله ثم رضي بعده لا يفيد فليتأمل (قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل ۔۔ (ج 3 ص:56)
وفی الفتاوى الهندية : ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وهو قول أبي يوسف رحمه الله تعالى آخرا وقول محمد رحمه الله تعالى آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط كذا في فتاوى قاضي خان (292/1)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91317کی تصدیق کریں
0     124
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات