محترم مفتی صاحب!میں ایک دینی مزاج رکھنے والی لڑکی ہوں، لیکن اپنی نادانی اور نا سمجھی کی وجہ سے ایک مشکل صورتحال میں پھنس گئی ہوں، میں اپنی پوری صورتحال نیچے بیان کر رہی ہوں، براِہ کرم میری اصلاح فرمائیں اور میرے سوالات کے جوابات دے کرمیری رہنمائی فرمائیں۔
تفصیل واقعہ:میری ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی، جس نے مجھے دنیا کی سمجھ بوجھ دی اور میں اس کی محبت میں مبتلا ہو گئی، میں نے اس کے لیے استخارہ کیا، تو خواب میں پریشانیاں نظر آئیں،میں نے یہ خواب اس لڑکے کو بتایا تو اس نے کہا استخارہ کا مطلب اللہ سے خیر مانگنا ہے، بس نہ کہ پریشانی پر یہ سمجھنا کہ اللہ اس کے مخالف ہے، پھر ہم باتیں کرنے لگے اور استخارے کا جواب بھول گئے۔ایک نا محرم سے تعلق کی وجہ سے میں ہر لمحہ اللہ کی ناراضگی سے ڈرتی تھی، میں نے جب اپنا یہ ڈر اس لڑکے سے شیئرکیا تو اس نے مجھے مشورہ دیا کہ: ہم"نکاح فاسد" کر کے اللہ کو گواہ بنا کر نکاح کر لیتے ہیں، اس طرح ہم گناہ سے بچ جائیں ِ
گے۔ میں نے اس کی بات مان لی اور تنہائی میں ہم نے اللہ کو گواہ بنا کر نکاح کر لیا۔ اس کے بعد ہمارے درمیان جسمانی تعلقات بھی قائم ہوئے کیونکہ میں اسے اپنا شوہر تسلیم کر چکی تھی۔
واضح ہو کہ نکاح کے درست انعقاد کیلئے شرعی گواہوں اور دیگر شرائط کا پایا جانا شرعاً ضروری ہے،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ نے شرائط نکاح کا لحاظ کئے بغیر فقط اللہ کو گواہ بنا تے ہوئے نکاح کیا، تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا تھا، بلکہ دونوں بدستور ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے، ایسی صورت میں سائلہ مذکور غیر محرم اور اجنبی شخص سے گفتگو اور جسمانی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئی ہے ،اس پر لازم ہے کہ اس سنگین حرکت پر اللہ کے حضور بصدق دل توبہ اور استغفار کرتے ہوئے مذکور لڑکے سے اپنے تعلقات کو فوری ختم کرے ، اورلڑکے پر بھی لازم ہےکہ وہ الفاظ متارکت کہہ کر لڑکی کو علیحدہ کردے، تاکہ عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو، تاہم سائلہ اگر اس سے واقعی نکاح کرنا چاہتی ہو ،تو بہتر یہ ہے کہ اپنے اولیاء کی رضامندی کیساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کی تقرر کے ساتھ اس لڑ کے کے ساتھ نکاح کرلے۔
کما فی الدر: تزوج بشهادة الله ورسوله لم يجز اھ(کتاب النکاح ج:3 ،ص:27،ط:سعید)
وفیه ایضا: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف اھ (کتاب النکاح،ج:3،ص:23،ط:سعید)
وفی الرد: في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق اھ(مطلب فی النکاح الفاسد،ج:3، ص:133، ط:سعید)