السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں ایک ایسی عورت ہوں جس سے ایک مرد نے واضح طور پر شادی کا وعدہ کیا تھا، اس نے نجی طور پر تعددِ ازدواج (ایک سے زیادہ شادی) کا موضوع چھیڑا اور دانستہ طور پر مجھ سے ایک جذباتی تعلق قائم رکھا، جس کی بنیاد تسلی، وابستگی اور وعدے پر تھی، حالانکہ وہ یقینی طور پر جانتا تھا کہ میں تنہا ہوں، جذباتی طور پر کمزور ہوں اور میرے پاس کوئی خاندانی یا معاشرتی سہارا نہیں ہے، جب اس کی پہلی بیوی کو اس کے ارادے کا علم ہوا اور اس کے خاندانی حالات میں شدید بحران پیدا ہوگیا، تب بھی اس نے مجھ سے تعلق ختم نہیں کیا۔ بلکہ اس نے طویل عرصہ تک رابطہ برقرار رکھا، مجھے اپنے جذباتی سہارا کے طور پر استعمال کیا، اپنی تکالیف اور نقصانات کا بار بار ذکر کرتا رہا اور میری امید کو زندہ رکھا، جبکہ میں بار بار جو نفسیاتی تکلیف اور اذیت ظاہر کرتی رہی، اسے نظرانداز کرتا رہا۔ہمارے درمیان اس نے تقدیر (القَدَر) کا حوالہ دے کر مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس علیحدگی کو قبول کروں اور اسے اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر قرار دیا۔ لیکن اسی تصورِ تقدیر کو اس نے اپنے اوپر لاگو نہیں کیا، مثلاً جب اس کی پہلی بیوی کو حقیقت معلوم ہوئی اور وہ اپنی خاندانی زندگی کو سنبھالنے میں ناکام رہا۔ یوں تقدیر کو اس نے یکطرفہ طور پر استعمال کیا — مجھے چھوڑنے کے جواز کے طور پر مجھ پر مسلط کیا، مگر اپنی تکلیف اور ذمہ داری کے معاملے میں اسے قبول نہ کیا۔آخرکار اس نے اچانک تعلق ختم کردیا اور ہر قسم کا رابطہ منقطع کرلیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب اس کی خاندانی زندگی مستحکم تھی تو وہ مجھ سے شادی کرنے کے قابل تھا، مگر حالات خراب ہونے کے بعد وہ اس قابل نہ رہا، جبکہ اس نے اس نقصان اور اذیت کو نظرانداز کیا جو اس نے جان بوجھ کر مجھے پہنچائی۔میں اس طرزِ عمل کے بارے میں اسلامی حکم دریافت کرنا چاہتی ہوں، خصوصاً تقدیر کے غلط استعمال، وعدوں اور طویل جذباتی وابستگی سے پیدا ہونے والی اخلاقی و دینی ذمہ داری، اور ایک کمزور عورت کو جان بوجھ کر سہارا بنا کر بعد میں چھوڑ دینے سے ہونے والی ناانصافی کے حوالے سے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ کسی اجنبی مرد و عورت کا نکاح سے پہلے بلاضرورت بات چیت کرنا ، گپ شپ لگانا، میل جول رکھنا ، تنہائی اختیار کرنا سب امور شرعاً ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن وحدیث میں سخت قسم کی وعید وارد ہوئی ہے جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے، لہٰذا سائلہ کا مذکور مرد سے اس طرح کا تعلق قائم کرنا شرعاًناجائز تھا جس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کریں اور آئندہ اس قسم کے تعلقات قائم کرنے سے مکمل اجتناب کریں ، جبکہ شخص مذکور کا نکاح کا وعدہ کر لینے کےبعد اب اس سے پیچھے ہٹنا تو درست نہیں ، تاہم اگر وہ خاندانی دباؤ وغیرہ کی وجہ سے سائلہ سے نکاح کرنے پر آمادہ نہ ہو تو بلاوجہ پریشان ہونے اور ہر وقت اس کے متعلق سوچنے سے بچنے کی پوری کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے اچھے جیون ساتھی کےلئے دعا کرتی رہے، اور درج ذیل وظائف کی پابندی کرے، انشاءاللہ تعالیٰ ضرور فائدہ ہوگا۔لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ "سورۃ طٰہٰ"کی آیت نمبر(131/132) وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ (131) وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ (132)کو لکھ کربازو پر باندھے،ان شاءاللہ امید ہے کہ جلد ہی کوئی مناسب رشتہ مل جائے گا۔
کما فی احکام القرآن: روی عن جابر فی قولہ ( اوفوا بالعقود) قال ھی عقدۃ النکاح و البیع و الحلف الخ (مطلب فی عقود الجاھلیۃ ج 2 صـ 294 ط : سھیل اکیڈیمی)
وفی الجامع بین الصحیحین: عن ابی ھریرۃ عن النبیﷺقال:آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا ائتمن خان الخ (باب المنافقون و صفاتھم, ج :1 ,ص: 72)
وفی ردالمحتار: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: و لا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب و محاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، و لا نجيز لهن رفع أصواتهن و لا تمطيطها و لا تليينها و تقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن و تحريك الشهوات منهم، و من هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: و يشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة اھ (1/406)۔