محترم مفتی صاحب / دارالافتاء السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :عرضِ خدمت ہے کہ ہماری فلاحی تنظیم “۔۔۔۔۔” ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو دینی، سماجی اور انسانی خدمت کے کاموں میں مصروفِ عمل ہے۔ ہماری تنظیم اسلامی عطیات وصول کرتی ہے،مثلاََزکوٰۃ، صدقہ، عمومی عطیات ۔
ان عطیات کو ہم مکمل دیانت، شفافیت اور شرعی اصولوں کے مطابق مستحق افراد تک پہنچاتے ہیں، جن میں شامل ہیں غریب و نادار خاندان، یتیم اور بیوہ بیمار اور ضرورت مند افراد، تعلیمی و بنیادی ضروریات کے مستحق افراد اور ناگہانی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی امداد ۔ہم اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ زکوٰۃ صرف شرعی مستحقین پر خرچ کی جا ئے، عطیات میں کسی قسم کی ذاتی منفعت شامل نہیں تمام رقوم کا باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے عطیات بلا امتیازِ مذہب و ذات صرف انسانی ہمدردی کے تحت تقسیم کیے جاتے ہیں۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں یہ رہنمائی فرمائیں کہ ہماری تنظیم کی جانب سے زکوٰۃ، صدقہ اور عطیات کی وصولی اور تقسیم شرعاً درست ہے یا نہیں؟ کیا عطیہ دہندگان کو ہماری تنظیم کو زکوٰۃ و صدقات دینا جائز ہے؟ کیا اس طریقۂ کار کے مطابق فلاحی کام کرنا شریعتِ اسلامیہ کے مطابق ہے؟ ہمیں اپنی تنظیم کے ریکارڈ اور قانونی تقاضوں (SECP / بینک / ڈونرز) کے لیے تحریری شرعی رائے (فتویٰ) درکار ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ والسلام
واضح ہو کہ زکوٰۃ اور صدقۂ واجبہ کا مصرف مستحقِ زکوٰۃافراد ہیں، چنانچہ مستحقِ زکوۃ(وہ مسلمان شخص جس کی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو،) کو یا اس کی طرف سے مقررکردہ وکیل کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مالِ زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ ادا نہ ہوں گے، چنانچہ زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ کی رقم کا مستحقین کو مالک بنائے بغیر تعلیم و صحت اور سماجی کاموں میں لگانا درست نہیں ،اسی طرح غیر مسلموں کو بھی زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں ، اور اس سے اصل مالکان کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
لہٰذا اگر مذکور ادارہ واقعۃََ سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اور مستند علماء و مفتیانِ کرام پہ مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں لوگوں کی زکوٰۃ و صدقۂ واجبہ کو اس کے اصل مستحقینِ زکوٰۃ تک پہنچاتا ہو تو مذکور ادارے کا زکوٰۃ وصول کرنا اور اس ادارے کو زکوٰۃ و عطیات دینا شرعاً جائز اور درست ہوگا، ورنہ نہیں۔
كماقال اللةتعالى:إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ(سورةالتوبة"٦٠)
وفي صحيح البخارى: عن ابن عباس رضي الله عنهما: «أن النبي صلى الله عليه وسلم: بعث معاذا رضي الله عنه إلى اليمن، فقال: ادعهم إلى: شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم، تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم.»(كتاب الزكاة:ج:٢،ص:١٠٤،ط:الساطانية)
وفي مشكاة المصابيح:وعن عبد المطلب بن ربيعة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد» . رواه مسلم(باب ممن لا تحل له الصدقة:الفصل الاول،ج:١،ص:٥٨٧،ط:المكتب الاسلامى)
وفي المصنف ابن ابي شيبه:عن إبراهيم بن مهاجر، قال: سألت إبراهيم، عن الصدقة على غير أهل الإسلام فقال: «أما الزكاة فلا وأما إن شاء رجل أن يتصدق فلا بأس»( ما قالوا في الصدقة يعطى منها أهل الذمة،ج:٢،ص:٤٠٢،ط:دار التاج)
وفي البحرالرائق:(قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم لحديث البخاري «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة» ولحديث أبي داود «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة».الخ(باب مصرف الزكاة،ج:٢،ص:٢٥٦،ط:دار الكتاب الاسلامى)
وفي الهندية:ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٨٨،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا في الكافي، وكذا لا يدفع إلى مواليهم كذا في العيني شرح الكنز. ويجوز صرف خمس الركاز والمعدن إلى فقراء بني هاشم كذا في الجوهرة النيرة(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٨٩،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة.الخ(الباب السابع في المصارف،ج:١،ص:١٩٠،ط:ماجديه)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0