نکاح

گھر والوں کو دکھانے کیلئے دوبارہ علانیہ نکاح کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
91387
| تاریخ :
2026-01-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گھر والوں کو دکھانے کیلئے دوبارہ علانیہ نکاح کرنا جائز ہے؟

لڑکی (عمر 39 سال) نے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد تقریباً ایک سال گزرنے کے بعد والدین کے ڈر سے ، اُن کو بتائے بغیر، بڑے بھائیوں کی مرضی سے، گواہان کی موجودگی میں لڑکے(عمر 42 سال) سے نکاح کر لیا۔نکاح میں کوئی رشتے دار موجود نہیں تھا۔لڑکے کے والد اور بہنیں نکاح کے حق میں تھیں۔لڑکے کی والدہ نکاح کے بارے میں لا علم تھیں۔لڑکے کی یہ دوسری شادی تھی۔ پہلی بیوی کے فساد ڈالنے کے ڈر سے اس نے بھی نکاح کے وقت گھر والوں کو لا علم رکھا۔ دونوں کی خواہش یہ تھی کہ: نکاح کے بعد گھر والوں کو آگاہ کر دیں گے ۔لڑکے نے ایک ماہ بعد والدہ اور پہلی بیوی کے علاوہ گھر میں سب کو نکاح کا بتا دیا،والد اور بہنیں اس رشتے پر خوش تھیں،لڑکی کے بھائیوں کی اجازت اور حمایت تو تھی ، لیکن نکاح کے وقوع پذیر ہونے کا ان کو بھی تقریباً دو ماہ بعد پتہ چلا ،لڑکی کے والدین ابھی تک نکاح کے بارے میں لا علم ہیں ، لیکن ان کو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ فلاں لڑکے سے نکاح کی بات چیت ہو رہی ہے،اور اُن کا ارادہ یہی ہے کہ اسی لڑکے سے نکاح ہو جائے ۔
لڑکی کے والدین کو اگر معلوم ہو جائے کہ لڑکی نے نکاح کر لیا اور ہمیں اب بتا رہی ہے تو وہ لڑکی سے کلام اور تعلق ختم کر دیں گے ۔اس کا حل یہ سوچا گیا کہ لڑکے کے گھر والے باقاعدہ پیغام لے کر آئیں اور لڑکی کے والدین سے لڑکی کا رشتہ مانگیں۔بڑوں کی طرف سے بات کرنے پر اجازت مل جائے گی ،تو اس کے بعد لڑکی کے والدین کے سامنے بھی رسم نکاح دوبارہ ادا کر دی جائے۔
1- کیا ایک دفعہ نکاح ہو جانے کے بعد دوبارہ رسم نکاح کی جا سکتی ہے ؟
2- اگر نہیں، تو کیا ایسی صورت اختیار کی جائے کہ: والدین ناراض نہ ہوں اور تعلق نہ توڑیں۔
3- کیا گھر والوں کو لا علم رکھ کر کیا گیا نکاح منعقد ہو گیا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں ایک بار نکاح ہونے کے بعدباہمی نزاع اور اختلاف سے بچنے کیلئے تجدید ِنکاح کی نیت سے دوبارہ بھی نکاح کیا جاسکتاہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91387کی تصدیق کریں
0     128
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات