نکاح

والد کا بیٹے کی رضامندی والی جگہ پر شادی نہ کروانا

فتوی نمبر :
91412
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والد کا بیٹے کی رضامندی والی جگہ پر شادی نہ کروانا

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ! ا مید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کی خدمت میں ایک نہایت اہم اور حساس مسئلے کے سلسلے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
میں ایک خاتون کو پسند کرتا ہوں اور ان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بھی مجھ سے نکاح کی خواہشمند ہیں۔ ہم دونوں تقریباً ڈھائی سال سے ایک دوسرے کو جانتے اور پسند کرتے ہیں اور اب باقاعدہ طور پر شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس رشتے کے سلسلے میں دونوں خاندان ایک دوسرے سے باقاعدہ طور پر مل چکے ہیں۔ ابتدا میں میرے والد صاحب نے اس رشتے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی، لیکن بعد میں جب وہ لڑکی کے خاندان سے ملے تو انہوں نے اچانک اپنا مؤقف بدل لیا اور اب وہ سختی سے اس رشتے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اس جگہ شادی نہیں کروائیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لڑکی ڈاکٹر آف فزیوتھراپی ہیں، نہایت تعلیم یافتہ، بااخلاق، باعزت اور سمجھدار ہیں۔ میں خود بھی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہوں، اور اگر میں دل کے ساتھ ساتھ عقل و منطق سے بھی سوچوں تو مجھے نہ اس لڑکی میں اور نہ ہی اس کے خاندان میں ایسی کوئی بات نظر آتی ہے جس کی بنیاد پر اس رشتے کو رد کیا جائے۔ میں نے اپنے والدین کو بہت ادب و احترام کے ساتھ سمجھانے اور منانے کی بھرپور کوشش کی ہے، مگر تاحال وہ راضی نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میں اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہوں تو کر لوں، لیکن وہ نہ اس شادی میں شریک ہوں گے اور نہ ہی بعد میں مجھ سے کوئی تعلق رکھیں گے۔ یہ بات میرے لیے شدید ذہنی اور جذباتی تکلیف کا باعث بن رہی ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ یہ نکاح خوش اسلوبی سے، گھر کے بڑوں کی رضامندی اور دعاؤں کے ساتھ ہو، تاکہ نہ صرف نکاح میں برکت ہو بلکہ خاندان کے تعلقات بھی قائم رہیں۔
میں آپ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے میں میری مکمل رہنمائی فرمائیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ازراہِ کرم میرے والد صاحب سے بھی بات فرما کر انہیں سمجھانے کی کوشش کریں، تاکہ وہ اس رشتے کے لیے راضی ہو جائیں اور یہ معاملہ خیر و عافیت کے ساتھ طے پا سکے۔آپ کی قیمتی رہنمائی میرے لیے نہایت اہم ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے نکاح کے معاملے میں جس طرح والدین اور اولیاء کی رائے کا احترام کرنے کی تلقین کی ہے،اسی طرح اولاد کے عاقل بالغ ہونے کے بعد انہیں اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں رائے دینے اور اپنی پسند و ناپسند کے اظہار کا حق دیا ہے ، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بلا کسی وجہ کے اپنی اولاد کی جائز خواہشات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کی پسند و ناپسند کا لحاظ رکھیں ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل جس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اگر وہ دین داری، حسب و نسب اور حسن و جمال کے اعتبار سے سائل سے مناسب ہو اور اس رشتے کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو تو سائل کے والد کو چاہیے کہ وہ سائل کی پسند کو ترجیح دیں تاکہ میاں بیوی کے درمیان مستقبل میں ذہنی ہم آہنگی برقرار رہ کر یہ رشتہ خاندان کے جوڑ کا سبب بنے ۔ البتہ اگر سائل کے والد یہ سمجھتے ہوں کہ اس رشتے میں مستقبل کے اعتبار سے کسی نقصان یا پریشانی کا اندیشہ ہے تو انہیں چاہیے کہ نرمی اور محبت کے ساتھ اپنے خدشات سائل کے سامنے رکھیں، ایسی صورت میں سائل کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والد کی بات پر غور کرے کیونکہ ممکن ہے کہ والد کو کچھ ایسے حقائق معلوم ہوں جو سائل کے علم میں نہ ہوں۔ لہٰذا اگر وہ کوئی معقول وجہ بیان کریں تو سائل کو چاہیے کہ وہ ان کی بات قبول کرے اور اپنی رائے پر اصرار نہ کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی مشکوٰۃالمصابیح: "وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك." (275/2 ط: رحمانیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91412کی تصدیق کریں
1     180
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات