کیا ایک بالغ لڑکی اپنی مرضی سے بغیر اس کے ماں باپ یا ولی کے نکاح کر سکتی ہے دو گواہوں کی موجودگی میں جن سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہ ہو؟
واضح ہو کہ والدین کے علم میں لائے بغیراپنی مرضی سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا شرعا عرفا اور اخلاقا درست نہیں، بلکہ شریف خاندان میں اسطرح کا نکاح معیوب سمجھا جاتا ہے اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار بھی نہیں ہوتا، نیز اگر یہ نکاح غیر کفو میں ہو تو یہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا، لہذا کسی بھی لڑکی کا محض وقتی جذبات کی وجہ سے اس انتہائی اقدام سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے بڑوں کو اعتماد میں لیکر کوئی فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ یہ نکاح پائیدار ہونے کے ساتھ دونوں کی کامیاب ازدواجی زندگی کا ذریعہ بن سکے اور لوگوں کے سامنے بھی رسوائی سے حفاظت بھی ہوسکے ۔
کما فی الدر المختار: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومہ او لصحتہ (من جانبہ )
وفی رد المحتار تحت قولہ ( الکفاءۃ معتبرۃ ) قالو معناہ معتبرۃ فی اللزوم علی الاولیاء حتی ان عند عدمھا جاز للولی الفسخ اھ فتح و ھذا بناء علی ظاھر الروایۃ من ان العقد صحیح ، و للولی الاعتراض ، اما علی روایۃ الحسن المختار للفتوی من انہ لا یصح (باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 74، ط: سعید )
و فی الدر المختار: ( ویفتی ) فی غیر الکفء (بعدم جوازہ اصلا) و ھو المختار للفتوی