نکاح

بیٹے کو اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنا

فتوی نمبر :
91516
| تاریخ :
2026-01-30
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیٹے کو اس کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنا

السلام علیکم ، میری منگنی 2024 میں ہوئی تھی جو کہ ایک سال تک قائم رہی، اس دوران میں اور میری منگیتر موبائل فون پر باہمی اور گھروالوں کی رضا مندی سے بات کرنے لگے اور ایک دوسرے کو پسند کرنے لگ گئے ، تقریبا ًایک سال بعد لڑکی کے والدین کی طرف سے یہ شرط سامنے آئی کہ پہلے اپنا ذاتی گھر بناؤ ،ہم اسوقت کرایہ کے گھر میں رہتے ہیں، یہ بات لڑکی والوں کو منگنی کرتے وقت بتا دی تھی، اسکے بعد گھر والوں کے باہمی مشوره سے طے پایا کے لڑکی والوں کے گھر جا کر ان سے بات کی جائے ۔والد صاحب ،بڑی بہن اور انکے شوہر لڑکی والوں کے گھر گئے ، تاکہ انھیں راضی کیا جا سکے ،لیکن لڑکی والوں نے ذاتی گھر نہ ہونے کو جواز بنا کر نکاح کرنے سے انکار کر دیا اور اخلاقی طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا گیا ،اس طرح لڑکی والوں نے انکار کر دیا ۔
اس کے بعد دوسری لڑکی کے ساتھ میری منگنی کر دی گئی ، میں نے بھی وقتی غصے اور جلدی میں اس وقت ”ہاں“ کر دی ،اور اس دوران میری بات پہلی لڑکی سے ہوتی رہی ،اب اس لڑکی نے اپنے والدین کو راضی کر لیا ہے اور میری بات پہلی لڑکی کے والد سے بھی ہو چکی ہے، اور وہ بھی اقرار کر چکے ہیں کہ ہماری طرف سے اب کوئی شرط نہیں ہے اور جو اخلاقی غلطی ہم نے پہلے کی ہے ، اس کے لیے معذرت کرتے ہیں، ایک دفعہ پہلے آپ لوگوں میں سے کوئی ایک ہمارے پاس آ جائے، ہم لڑکی کی شادی کے لیے تیار ہیں ۔
اب اس وقت صورتِ حال یہ ہے کے میں اور پہلی لڑکی ہم دونو ں دلی طور پر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور نکاح کے لیے بھی رضا مند ہیں اور لڑکی کے والدین بھی رضا مند ہیں ۔
اور میں دوسری لڑکی کے ساتھ منگنی ختم کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں دوسری لڑکی کو پسند نہیں کرتا اور اس کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے راضی نہیں ہوں ،مجھے اس بات کا غالب گما ن ہے کہ میں دوسری لڑکی کا مکمل حق ادا نہیں کر سکوں گا ،اس بات کا شدید ڈر ہے کہ میں کسی گناہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں ،لیکن میرے والد صاحب چاہتے ہیں کہ میں دوسری لڑکی کے ساتھ شادی کروں ،
میرے والد کا موقف :
جب ہم لوگ پہلی لڑکی والوں کے گھر گئے، انہوں نے ہماری بے عزتی کی اور رشتہ سے انکار کر دیا تھا ، لہذا میں ان کے گھر نہیں جاؤں گا اور نہ انھیں یہاں آنے دوں گا، اگر تمہیں رشتہ دیتے ہیں تو خود جا کے شادی کر لو ، دوسری لڑکی والوں نے ہماری عزت کی ہے اور دوسری لڑکی کے ساتھ جب منگنی کی گئی تو تم نے” ہاں “کی تھی ،لهذا تم یہیں شادی کرو ،تمہارے انکار کی وجہ سے معاشرے میں ہماری عزت کم ہو جائے گی اور اس طرح تم میری نافرمانی کررہے ہو۔
سوال: کیا میرے والد کا یہ موقف شرعی لحاظ سے درست ہے ؟
سوال: میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے، جبکہ میں، پہلی لڑکی اور لڑکی کے والدین نکاح کے لیے راضی ہیں ،سوائے میرے والد کے؟
سوال: میں اپنے والد کو کیسے راضی کروں کہ وہ پہلی لڑکی کے ساتھ نکاح کے لیے راضی ہو جائیں ؟
سوال:دوسری لڑکی کے ساتھ نکاح کے انکار کرنے سے کیا میں والدین کی نافرمانی کا متحمل ہو رہا ہوں ؟براہِ کرم ان سوالات کا شرعی، تحقیقی اور مدلل جواب تحریر فرمائیں۔ بہت شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ منگنی شرعاً محض وعدۂ نکاح ہے، جس کےبعدفریقین میں سے کسی پربھی شرعاًنکاح کرنالازم نہیں ہوتااگرچہ بغیرکسی معقول عذرکےمنگنی توڑناوعدہ خلافی کے زمرے میں آتاہے جوشرعاً و اخلاقاًمناسب طرزعمل نہیں ،جس سے بہرصورت احترازکرناچاہیے۔
جبکہ نکاح کے باب میں اصل اعتبار مرد و عورت کی باہمی رضا مندی کا ہے۔ اگر سائل کو دوسری منگیتر سے نکاح پر قلبی آمادگی نہ ہو اور اسے غالب گمان ہو کہ نکاح کے بعد وہ اس کے حقوقِ واجبہ ادا نہ کرسکے گا، تو ایسی صورت میں محض خاندانی دباؤ یا معاشرتی ملامت کے خوف سےاس لڑکی سے نکاح کرنا درست نہیں، بلکہ اندیشۂ حق تلفی کی بنا پراس نکاح سے اجتناب بہتر ہے۔
تاہم والدین کی اطاعت اورفرمانبرداری بھی بلا شبہ واجب ہے، چنانچہ سائل کوچاہیے کہ وہ اگراپنی سابقہ منگیترسے ہی نکاح کرنے کاخواہشمندہو اور اس لڑکی کے والدین بھی اب نکاح پر راضی ہوں تو حتی الامکان حکمت و نرمی کے ساتھ والدین کوراضی کرنے کی کوشش کرے اور سائل کے والدین کوبھی چاہیے کہ سابقہ ناخوشگوارمعاملہ کوبنیادبناکراس لڑکی کوبہوبنانےسے انکارنہ کریں، بلکہ بیٹے کی خوشی کومقدم رکھیں اوراس کی خواہش کے مطابق اس کے نکاح کابندوبست کردیں ۔
جبکہ دوسری لڑکی کے ساتھ چونکہ ابھی نکاح منعقد نہیں ہوا، چنانچہ اس کے ساتھ منگنی کوختم کیاجاسکتاہے ،البتہ سائل اوراس کے والدین اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ اس معاملہ کوحسنِ اخلاق اور نرم انداز سے ختم کیا جائے، تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی مشکاۃ المصابیح: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ "تنکح المرأۃ لأربع: لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداك" (کتاب النکاح، الفصل الأول، ج2، ص3،ط: البشری)-
وفی الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ، الخ
وفی الشامیۃ: تحت (قوله: ولا تجبر البالغة) ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغيرين،الخ (کتاب النکاح، باب الولی، ج:3،ص:58،ط: ایچ ایم سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91516کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات