نکاح

رخصتی سے قبل عدالتی خلع کے بعد دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
91533
| تاریخ :
2026-01-30
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رخصتی سے قبل عدالتی خلع کے بعد دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے؟

چھ سال قبل والدین کی رضا مندی اور انکی سرپرستی میں نکاح ہوا تھا، چار سال بعد چند ناگریز وجوہات کی بنا پر نکاح قائم نہ رہ سکا، لڑکی نے کورٹ سے خلع لے لی، اب خلع کو دو سال ہوچکے ہیں،کیا لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ؟ کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟نوٹ:نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ناہی دونوں کی تنہائی میں کوئی ملاقات ہوئی تھی، بس صرف فون کال پر رابطہ تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر یہ خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوا ہو، تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اورعورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے ،تاہم اب اگرمیاں بیوی دوبارہ ازدواجی حیثیت سے رہنے کے خواہشمند ہوں، تو اس کے لیے نئے سرے سے حقِ مہر کے تقرّر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کےساتھ دوبارہ نکاح کرکےساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في احكام القران للجصاص: لا يجوز ايقاع الطلاق من جهتهما من غير رضى الزوج وتوكيله ولا اخراج المهر عن ملكها من غير رضاها فلذلك قال اصحابنا انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين ان يفرقا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لهما احدهما وكيل المرأة والاخر وكيل الزوج في الخلع او في التفريق الخ (سورة النساء باب الحكمين كيف يعملان ج 2 ص 239 ط دار الكتب العلمية بيروت)
وفي البحر: قوله الواقع به وبالطلاق على مال طلاق بائن اي بالخلع الشرعي اما الخلع فقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة ولانه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكناية بائن الخ (كتاب الطلاق باب الخلع ج 4 ص 71 ط مكتبة ماجدية)
وفي الهداية: وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال لقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة الخ (كتاب الطلاق باب الخلع ج 2 ص 261 ط دار احياء التراث العربي)
وفي الهداية: واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (كتاب الطلاق باب الرجعة فصل فيما تحل به المطلقة ج 2 ص 92 ط مكتبة انعامية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91533کی تصدیق کریں
0     155
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات