نکاح

آن لائن نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
91538
| تاریخ :
2026-01-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آن لائن نکاح کا حکم

کیا کہتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں، کیا آن لائن ویڈیو کال یا وائیس کال پر نکاح منعقد ہوجاتا ہے ؟ براہ مہربانی دلائل کے ساتھ جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کےلیے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم اور ضروری ہے، جبکہ انٹرنیٹ پر ویڈیو کال یا ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ لڑکا، لڑکی کا ایجاب و قبول کرنا، مجلس ایک نہ ہو نے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اور اس طرح نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا، البتہ اگر متعاقدین میں سے دونوں یاکسی ایک کے لئے مجلس ِنکاح میں حاضرہوناممکن نہ ہو ،تواس کاطریقہ یہ ہے کہ جوفریق مجلس ِنکاح میں حاضرنہ ہو،وہ اپنی طرف سے مجلسِ نکاح میں موجودکسی شخص کووکیل مقررکردے ،جو عقدِنکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی میں اس کی طرف سے بطوروکیل ایجاب و قبول کرے، مثلاً یہ کہ: "میں نے اتنےحق مہر کے عوض فلانہ بنت فلاں کواپنے مؤکل کے نکاح میں قبول کیا"، چنانچہ اس طرح کے ایجاب و قبول سے یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہوجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، الخ (کتاب النکاح،ج 3،ص 14،ط: ایچ ایم سعید)-
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما،
(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب؛ بحر، الخ (کتاب النکاح،ج 3،ص 21 – 23،ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا فی التتار خانيۃ ناقلا عن خواهر زاده، الخ (کتاب النکاح،الباب السادس فی الوكالة بالنكاح وغيرها،ج 1، ص 294،ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91538کی تصدیق کریں
0     71
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات