نکاح

کیا نابالغ بچہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
91540
| تاریخ :
2026-01-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا نابالغ بچہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوسکتی ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال یہ ہے کہ ایک لڑکا ہے جس کی عمر اب 20 سال ہے اس کے لیے ایک لڑکی کا رشتہ ہے (نکاح کے لیے)، لیکن وہ لڑکا کہتا ہے کہ جب وہ چھوٹا تھا (7,8 سال کا نابالغ)تو وہ اس لڑکی کی والدہ کے ساتھ سوتا تھا (جیسے چھوٹے بچے رشتے داروں کے ساتھ سوتے ہیں)تو وہ خاتون اس لڑکے کو اپنے بالکل قریب کر کے رکھتی اور وہ ٹچ بھی کراتی جس سے اس ناسمجھ لڑکے کا نفس اس عورت کی آ گے والی جگہ پر لگتارہتا ،لیکن اس بچے کی شہوت اس وقت نہیں تھی ۔تو کیا یہ لڑکا اب اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ؟لڑکے میں شہوت نہیں تھی ، عورت کی شہوت کا پتا نہیں ہے،حرمت مصاہرت ہوگی ،کیا لڑکا اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے شرط ہے کہ سبب حرمت کا تحقق حالت شہوت میں ہو،جبکہ سوال میں مذکورلڑکا چونکہ اس وقت نابالغ (7-8سال کا )تھا اور اس میں شہوت بھی موجود نہ تھی ،چنانچہ اگر عورت کی طرف سے شہوت کے ساتھ ایساتعلق ثابت بھی ہو، تب بھی اس سے حرمت ثابت نہیں ہوئی ،لہذا اس صورت میں اس لڑکے کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاًجائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاویٰ الھندیۃ: ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة.الیٰ قولہ: وكذا تشترط الشهوة في الذكر حتى لو جامع ابن أربع سنين زوجة أبيه لا تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في فتح القدير۔(ج: 1، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ص: 275، مط: ماجدیۃ)
وفی ردالمحتارتحت قولہ ( فلو جامع غير مراهق إلخ) : الذي في الفتح حتى لو جامع ابن أربع سنين زوجة أبيه لا تثبت الحرمة قال في البحر: وظاهره اعتبار السن الآتي في حد المشتهاة أعني تسع سنين.قال في النهر وأقول: التعليل بعدم الاشتهاء يفيد أن من لا يشتهي لا تثبت الحرمة بجماعه ولا خفاء أن ابن تسع عار من هذا، بل لا بد أن يكون مراهقا، الی قولہ:فتحصل من هذا: أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛ لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام، وهذا يوافق ما مر من أن العلة هي الوطء الذي يكون سببا للولد أو المس الذي يكون سببا لهذا الوطء، ولا يخفى أن غير المراهق منهما لا يتأتى منه الولد.(ج: 3، ص: 35 ، مط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91540کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات