نکاح

شادی کے وقت دئیے ہوئے سونے کا حکم

فتوی نمبر :
91563
| تاریخ :
2026-01-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شادی کے وقت دئیے ہوئے سونے کا حکم

نکاح کے وقت ہم نے کچھ رقم بطورِ حقِ مہر لڑکی کو دی اور اس کے علاوہ کچھ سونا ہم نے لڑکی کو عارضی طور پر استعمال کے لیے دیا تھا (جس کا مقصد اورعرف یہ تھا کہ لڑکے کودیا ہے جو ضرورت کے وقت اپنے کام میں لا سکے)، لیکن لڑکی کو بطورِ گفٹ نہیں دیا تھا۔ اب طلاق کے بعد لڑکی والے کہتے ہیں یہ سونا بھی ہمارا ہے، جبکہ ہمارے لڑکے نے سونا اس وقت لڑکی کو دیا تھا جب وہ پہلی بار لڑکی کے پاس گیا۔ لڑکی والے کہتے ہیں یہ آپ نے منہ دکھائی پر تحفہ دیا تھا، جبکہ لڑکے کے والدین جو اس کے مالک ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ سونا ہم نے اپنی اولاد کے لیے بنوایا تھا اور دلہن کو بطورِ استعمال کے لیے دیا تھا۔
سوال: جو سونا ہم نے دیا تھا صرف استعمال کے لیےاس سونے پر ہمارا (لڑکے کے والدین) کا حق ہے یا لڑکی کا؟
نوٹ: لڑکی اپنا حقِ مہر اور سامان واپس لے چکی ہے۔
نوٹ: یہ سونا دیتے وقت نہ گفٹ کی صراحت کی تھی نہ ہی عاریت کی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے خاندان والوں میں شادی کے موقع پر دلہن کو دیے جانے والے سونے کے زیورات کے بارے میں اگر اس بات کا عرفِ عام ہو کہ وہ بطورِ ہبہ نہیں دیا جاتا ہو بلکہ محض استعمال کے لیے دیا جاتا ہو تو مذکور سونا جو پہلی ملاقات کے وقت لڑکی کو دیا گیاتھا، وہ لڑکی کی ملکیت نہیں، اس لیے اب وہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ بصورتِ دیگر یہ سونا لڑکی کی ملکیت شمار ہوگا، شوہر اور اس کے خاندان والوں پر لازم ہے کہ اب طلاق ہو جانے کے بعد لڑکی کو گفٹ کیا گیا سونا اس کے حوالے کرکے مؤاخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدرالمختار:جهز ابنته بما يجهز به مثلها ثم قال كنت أعرتها الأمتعة إن العرف مستمرا) بين الناس (أن الأب يدفع ذلك) الجهاز (ملكا لا إعارة لا يقبل قوله) إنه إعارة لأن الظاهر يكذبه (وإن لم يكن) العرف (كذلك) أو تارة وتارة (فالقول له) به يفتى كما لو كان أكثر مما يجهز به مثلها فإن القول له اتفاقا (والأم) وولي الصغيرة (كالأب) فيما ذكره، وفيما يدعيه الأجنبي بعد الموت لا يقبل إلا ببينة شرح وهبانية وتقدم في باب المهر وفي الأشباه.( ‌‌كتاب العارية.ج:٥،ص:٦٨٤،مط:سعيد)
وفيه ايضاََ: دفع لابنه مالا ليتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له، وإلا فميراث وتمامه في جواهر الفتاوى.(كتاب الهبة: ‌‌فصل في مسائل متفرقة،ج:٥،ص:٧٠٩،مط:سعيد)
وفي حاشية ابن عابدين: ‌والمعتمد ‌البناء ‌على ‌العرف ‌كما ‌علمت(مطلب أنفق على معتدة الغير،ج:٣،ص:١٥٧،مط:سعيد)
وفيها ايضاََ:قال في النهر: وأقول وينبغي أن لا يقبل قوله أيضا في الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف. اهـ. قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل ‌الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا(مطلب فيما يرسله إلى الزوجة،ج:٣،ص:١٥٣،مط:سعيد)
وفي الهنديه:رجل دفع إلى ابنه في صحته مالا يتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب ‌إن ‌أعطاه ‌هبة فالكل له،
وإن دفع إليه لأن يعمل فيه للأب فهو ميراث، كذا في جواهر الفتاوى.( الباب السادس في الهبة للصغير،ج:٤،ص:٣٩٢،مط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند ‌زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.( الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:١،ص:٣٢٧،مط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91563کی تصدیق کریں
0     146
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات