کیا فرماتے ہیں علماء ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک لڑکی ہے ، جس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے ، اور والدین نے اس لڑکی کی رضامندی سے اس کا نکاح کردیا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں لڑکی کا نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے یا نہیں ؟ نیز کیا اٹھارہ سال سے کمر عمر لڑکے یا لڑکی کا نکاح پڑھانے والا شرعاً گنہگار ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے نکاح کے لیے کسی عمر کی حد مقرر نہیں کی، بلکہ اگر نکاح کی تمام شرعی شرائط پوری ہوں تو عمر کے کسی بھی حصے میں نکاح شرعاً جائز اور درست ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ لڑکی کا نکاح اگر اس کی اجازت اور رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں، حق مہر کے تعین کے ساتھ، ایجاب و قبول کے ذریعے منعقد ہوا ہو تو اگرچہ لڑکی کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہی کیوں نہ ہو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے،اور اس پر نکاح کے تمام شرعی احکام لاگو ہوں گے۔ جبکہ نکاح پڑھانے والا مولوی صاحب شرعاً گنہگار بھی نہیں ۔