نکاح

چھوڑنے کی نیت کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
91602
| تاریخ :
2026-02-02
معاملات / احکام نکاح / نکاح

چھوڑنے کی نیت کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم

سوال: ایک مرد اور عورت آپس میں ناجائز تعلق میں مبتلا ہو گئے۔ گناہ کا احساس ہوا تو ایمان بچانے کے لیے انہوں نے دو گواہوں کی موجودگی میں خفیہ نکاح کر لیا۔نکاح کے وقت کوئی مدت یا وقت کی شرط زبان سے نہیں لگائی گئی، نہ یہ نیت تھی کہ لازماً چھوڑ دیں گے،
البتہ دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک ممکن ہو نبھائیں گے، آگے حالات دیکھیں گے، سوال یہ ہے کہ: کیا اس نیت کے ساتھ کیا گیا نکاح شرعاً صحیح ہے؟ نکاح کے بعد ان کا ازدواجی تعلق حلال شمار ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر لڑکا اور لڑکی باہم کفو ، یعنی نسب، مال، دینداری، خاندانی شرافت میں یکساں درجے کے حامل ہوں، اور انہوں نے تمام شرعی شرائط مثلا متعاقدین کی ایک ہی مجلس میں ایجاب قبول کرنا، گواہوں کا حاضر ہونا، پھر حاضر ہو کر متعاقدین کا ایجاب قبول سننا وغیرہ ملحوظ ركھ کر باهم نكاح كيا هو، اور نکاح کے وقت اس کو کسی وقت اور مدت کے ساتھ مشروط بھی نہ کیا ہو، تو اگرچہ یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے، مگر لڑکا و لڑکی کا اولیاء کی رضا مندی کے بغیر چھپ کر اس طرح نکاح کرنا انتہائی نامناسب فعل ہے اور شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو بہت قبیح فعل شمار کیا جاتا ہے، اور عموما ایسے نکاحوں کا نتیجہ طلاق یا خلع هى کی صورت میں نکلتا ہے، لہذا اس نکاح کو محض جنسی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ بنانے کے بجائے اپنے خاندان کے بڑوں کو اعتماد میں لے کر ان کی رضا مندی بھی حاصل کر لی جائے، تاکہ بعد میں دیگر مفاسد سے بچ جانے کے ساتھ ساتھ نکاح کے مقاصد اور میاں بیوی کے جملہ حقوق کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ جبکہ اس نکاح سے قبل جو کچھ باہم ناجائز تعلق قائم کیا، اس پر بصدق دل توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت) إلخ (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 9، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر(كتاب النكاح، ج: 3، ص: 14، إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اهـ (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 21-22، إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها. اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 228، ط: إيج إيم سعيد)
وفي بدائع الصنائع: نكاح المتعة وأنه نوعان: أحدهما: أن يكون بلفظ التمتع، والثاني: أن يكون بلفظ النكاح والتزويج وما يقوم مقامهما. أما الأول: فهو أن يقول: أعطيك كذا على أن أتمتع منك يوما أو شهرا أو سنة ونحو ذلك، وأنه باطل عند عامة العلماء. (إلى قوله) وأما الثاني: فهو أن يقول: أتزوجك عشرة أيام ونحو ذلك وأنه فاسد عند أصحابنا الثلاثة.اهـ (كتاب النكاح، فصل في التأبيد، ج: 2، ص: 272-273، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91602کی تصدیق کریں
0     107
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات