میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ، لیکن میری والدہ اس پر راضی نہیں ہیں ، وہ مجھے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنے پر مجبور کررہی ہیں ، میں پچھلے چار مہینوں سے انہیں قائل کرنے کی کوشش کررہا ہوں ، مگر وہ ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ والدین کی بات مانو ۔
صورت مسؤلہ میں سائل جب عاقل بالغ ہے تو اپنے رشتہ کے انتخاب میں بھی شرعا وہ والدین کی مرضی کا پابند نہیں بلکہ اسمیں اپنے پسند کا انتخاب کرسکتا ہے لیکن زندگی کے اس اہم فیصلہ میں والدین کو شریک کرنا اور ان کی رائے کا احترام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کے درست انتخاب میں والدین کے تجربہ کے ساتھ ساتھ ان کی دعائیں بھی شامل رہیں، جو بعد میں ندامت اور پریشانی سے بچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور والدین کو بھی چاہیئے کہ بچے کے لیئے رشتہ دیکھتے وقت ان پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے کے بجائے اس کی پسند نا پسند کو ملحوظ رکھے تاکہ ان کی ازدواجی زندگی یکسوئی سے ساتھ گزر سکے ۔
کما فی جامع الترمذی: عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنه عنی النبیﷺ قال رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد. ( باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ج: 6، ص: 22، ط: دارالکتب العلمیہ )
وفی الدر المختار:(و لاتجبر البالغة البکر علی النکاح) لانقطاع الولایة بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي و هو السنة الخ ( باب الولی، ج: 3، ص: 57، ط: سعید )