احکام بدعات

میت کے انتقال کے چوتھے دن دعوت و دعاء کا اہتمام کرنا اور اس میں اہل علم کےشرکت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
91651
| تاریخ :
2026-02-03
حظر و اباحت / بدعات و منکرات / احکام بدعات

میت کے انتقال کے چوتھے دن دعوت و دعاء کا اہتمام کرنا اور اس میں اہل علم کےشرکت کرنے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق ہمارے علاقوں میں بتدریج رائج ہوتا جا رہا ہے کہ انتقالِ میت کے بعد چوتھے دن میت کے گھر میں ایصالِ ثواب کے نام سے ایک باقاعدہ پروگرام منعقد کیا جاتا ہے، جس میں تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ شرکاء کے لیے کھانے کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔اہلِ علاقہ کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ اس پروگرام کے لیے باقاعدہ دعوت نہیں دی جاتی، لیکن چونکہ علاقے کے لوگوں کو ازخود معلوم ہوتا ہے کہ فلاں گھر میں آج چوتھا دن ہے، اس لیے وہ بلا دعوت ازخود پہنچ جاتے ہیں۔ دوسری جانب میت کے لواحقین بھی لوگوں کی آمد کے پیشِ نظر پہلے ہی کھانے وغیرہ کا انتظام کر لیتے ہیں۔عملی صورتِ حال یہ ہے کہ اگر اس طرزِ عمل سے روکنے کی کوشش کی جائے تو کوئی اسے ترک کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ یہ عمل ایک سماجی روایت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تکلف، اہتمام اور پابندی کے پہلو مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔اس پس منظر میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
انتقال کے بعد میت کے گھر چوتھے دن ایصالِ ثواب کے نام سے اس طرح کا پروگرام منعقد کرنا، جس میں اجتماعی دعا اور کھانے کا اہتمام ہو، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ایسے پروگرام میں شرکت کرنے والوں کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟اہلِ علم اور دینی شخصیات کے لیے ان مجالس میں شرکت کا کیا حکم ہے؟کیا وہ محض دعا کی نیت سے یا برادری اور معاشرتی تعلقات نبھانے کے لیے ان میں شریک ہو سکتے ہیں، یا ان کا عدمِ شرکت ہی زیادہ مناسب اور شرعی تقاضوں کے مطابق ہے؟جزاکم اللہ خیراً!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی دن اور وقت کی تعیین کے بغیر میت کے عاقل و بالغ عزیز و اقارب کی طرف سے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی مرضی و خوشی سے میت کےایصالِ ثواب کیلیے کھانا تیار کر کے لوگوں کو کھلانا تو جائز اور درست ہے ، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب میت تک پہنچائے ، اور اس طرح تیار کیا گیا کھانا اہلِ خانہ، فقراء ، مساکین اور مالدارسب لوگوں کے لیے کھانا جائز اور درست ہے ، لیکن اس کے لیے باقاعدہ مخصوص ایام کی تعیین کرنا ، یا ایصالِ ثواب کیلیے دعوت کے اہتمام کو ضروری اور لازم سمجھنا اور دعوت نہ کرنے والوں کو تنقید و ملامت کا نشانہ بنانا ، یا تمام ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر یا ورثاء میں سے نابالغ افراد کی موجود گی میں میت کے ترکہ سے صدقہ و خیرات کرنا ، یا نام و نمود کیلیے دعوت کا اہتمام کرنا ، یہ تمام وہ امور ہیں جو کہ شرعاً ناجائز اور واجب الترک ہیں، لہٰذا ان امور کےساتھ ایصالِ ثواب کیلۓ دعوتوں کا اہتمام کرنا شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی اس پر حصولِ ثواب کی امید کی جاسکتی ہے، اس لیے اس سےاجتناب لازم ہے، جبکہ اہل محلہ میں موجود اہل علم حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے غیر شرعی پروگراموں میں حاضر ہوکر اسے مزید تقویت پہنچانے کے بجائے اس کی روک تام میں اپنا کردار ادا کریں ،تاکہ معاشرہ اس طرح کی بدعات و رسومات سے پاک ہوسکے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: و أما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني لأنها تجري مجرى الهبة اھ ( فصل واما الذی یرجع الی المؤدی، ج: 2، ص: 47، ط: سعید )
و في رد المحتار تحت قوله ( و باتخاذ الطعام لھم ) و قال أيضا: و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، و هي بدعة مستقبحة (الي قوله) و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم ، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج و قال : و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى اهـ و بحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه - عليه الصلاة والسلام - دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء و جيء بالطعام» أقول : و فيه نظر ، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص ، بخلاف ما في حديث جرير على أنه بحث في المنقول في مذهبنا و مذهب غيرنا كالشافعية و الحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة ، و لا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب ، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع و القناديل التي توجد في الأفراح ، و کدق الطبول ، و الغناء بالأصوات الحسان ، و اجتماع النساء و المردان، و أخذ الأجرة على الذكر و قراءة القرآن ، و غير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان ، و ما كان كذلك فلا شك في حرمته و بطلان الوصية به ، و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم الخ( مطلب فی کراھیة الضیافة من اھل البیت، ج: 2، ص: 240، ط: سعید )
و فی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى المقبرة في المواسم و اتخاذ الدعوة بقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص الخ(ص: 617 دار الكتب العلمية بيروت)۔
و فی بدائع الصنائع : فإن من صام أو صلى أو تصدق و جعل ثوابه لغيره من الأموات أو الأحياء جاز و يصل ثوابها إليهم عند أهل السنة و الجماعة و قد صح عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «أنه ضحى بكبشين أملحين : أحدهما : عن نفسه ، و الآخر : عن أمته ممن آمن بوحدانية الله تعالى و برسالته» - صلى الله عليه و سلم - و روي «أن سعد بن أبي وقاص - رضي الله عنه - سأل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال يا رسول الله : إن أمي كانت تحب الصدقة أفأتصدق عنها؟ فقال النبي : - صلى الله عليه و سلم- تصدق» و عليه عمل المسلمين من لدن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى يومنا هذا من زيارة القبور و قراءة القرآن عليها و التكفين و الصدقات و الصوم و الصلاة و جعل ثوابها للأموات الخ( فصل: واما الذی یرجع الی النبات، ج: 2، ص: 212، ط: سعید )
و فی رد المحتار: تحت (قوله ویقرا یس ) و في شرح اللباب و يقرأ من القرآن ما تيسر له (الی قوله) ثم يقول : اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم اھ( مطلب فی زیارۃ القبور، ج: 2، ص: 243، ط: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91651کی تصدیق کریں
0     68
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بدعت ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام بدعات 1
  • زیادہ بارش کے وقت چھت پر آذان دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام بدعات 0
  • 27 رجب کو روزہ رکھنے کی حقیقت اور حضرت عمر رض کا روزہ تڑوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   احکام بدعات 2
  • تعزیت کے موقع پر ہاتھ اٹھاکردعامانگنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   احکام بدعات 0
  • قبروں پر ماربل لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   احکام بدعات 0
  • نوحہ ، ذو الجناح ، تعزیہ ، علم اور محرم کا جلوس

    یونیکوڈ   اسکین   احکام بدعات 0
  • 11 ربیع الاول ، 27 رجب اور 15 شعبان کو فاتحہ خوانی کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام بدعات 0
  • مصیبت کے وقت اذان دینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام بدعات 0
  • اسلام میں شب برات کی حقیقت

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   احکام بدعات 2
  • حاجی کے استقبال میں اختیار کۓ جانے والے مختلف رسومات

    یونیکوڈ   احکام بدعات 2
  • تراویح کے بعد اجتماعی طور پر سورۃ الملک پڑھنا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 4
  • اجماع و قیاس کے منکر کا حکم

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • کیاتقریب ختم بخاری بدعت ہے؟

    یونیکوڈ   احکام بدعات 1
  • یوم صدیقِ اکبرؓ منانے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • انتقال کے بعد سے متعلق مختلف بدعات و رسومات

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • محرم میں چاول تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • تعزیت کے مروّجہ طریقہ کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • قبر کو پختہ کرنا اور اس پر کتبہ لگانا وغیرہ دیگر بدعات و رسومات

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • معجزہ اور کرامت میں فرق

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • سالگرہ کی تقریب میں شرکت اور کیک کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • مروجہ قرآن خوانی سے متعلق

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • ماہ محرم میں لوگوں سے چندہ کرکے سبیلیں لگانا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 1
  • قرآن خوانی میں قرآن مکمل ختم کرنا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
  • قبروں پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا

    یونیکوڈ   احکام بدعات 0
Related Topics متعلقه موضوعات